سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور، نرخ میں مسلسل دوسرے روز کئی ہزار کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں آج بھی بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 61ڈالر کے اضافے سے 3ہزار 377ڈالر کی سطح پر آگئی۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت مزید 61ڈالر کے اضافے سے 3ہزار 377ڈالر کی سطح پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی منگل کو 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 6ہزار 100روپے کے اضافے سے 3لاکھ 56ہزار 100روپے کی سطح پر آگئی۔
اس کے علاوہ اور فی دس گرام سونے کی قیمت 5ہزار 232روپے بڑھ کر 3لاکھ 5ہزار 300روپے کی سطح پر آگئی ہے۔
اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 57روپے کے اضافے سے 3482روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بھی 22 روپے کے اضافے سے 2985روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت کے اضافے سے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔