سونے کی قیمت میں آج بھی کئی ہزار روپے کی کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 3 ہزار 500 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 33 ہزار 862 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت 3 ہزار 100 روپے گھٹ کر 3 لاکھ 71 ہزار 966 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مزید کمی ہوگئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 35 ڈالر کی بڑی کمی سے 4 ہزار 115 ڈالر کی سطح پر آگئی۔ عالمی مارکیٹ میں کمی کے باعث ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 3 ہزار 500 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 33 ہزار 862 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت 3 ہزار 100 روپے گھٹ کر 3 لاکھ 71 ہزار 966 روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: روپے کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔