باز آ جاؤ ورنہ۔۔۔۔ پاکستان کی واشگاف وارنِنگ
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
سٹی42: پاکستان کی قیادت نے واضح الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کا جواب دینے پر مجبور پاکستان اب تک صرف ملٹری اہداف کو ٹارگٹ کر رہا ہے۔ اگر بھارت ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا تو پاکستان ہائی ویلیوڈ ٹارگٹس کو بھی ہِٹ کرے گا۔
دفاعی مارہین کا کہنا ہے کہ ہائی ویلیوڈ ٹارگٹس مین دشمن کے معاشی قوت فراہم کرنے والے ادارے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
Waseem Azmet.ذریعہ: City 42
پڑھیں:
آکسفورڈ یونین میں پاکستان کی علمی فتح؛ بھارتی وفد مباحثے سے دستبردار
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: پاکستان نے علمی و مباحثاتی میدان میں ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے، جہاں آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے میں بھارتی وفد مباحثے کے آغاز سے قبل ہی دستبردار ہو گیا اور پاکستان کو بلامقابلہ فتح حاصل ہوئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے جاری بیان کے مطابق جنرل (ر) زبیر محمود حیات، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور ڈاکٹر محمد فیصل نے مباحثے میں شرکت کے لیے لندن میں موجود رہ کر پاکستان کا موقف پیش کرنے کی تیاری کی تھی لیکن بھارتی وفد حاضری دینے کی ہمت نہ کر سکا۔
بیان میں بتایا گیا کہ قرارداد کے مطابق بھارت کی پاکستان پالیسی عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمت عملی پر مبنی ہے، جس پر مباحثے میں جواب دینے سے بھارتی وفد نے گریز کیا، ہائی کمیشن کے مطابق بھارتی مقررین ٹی وی چینلز پر تو شور مچاتے ہیں مگر علمی فورمز میں دلیل کے ساتھ مقابلہ کرنے سے گھبراتے ہیں، مباحثے میں طلبہ کی اکثریت بھارتی ہونے کے باوجود وفد نے ووٹ کا سامنا کرنے سے انکار کیا۔
پاکستانی ہائی کمیشن نے کہا کہ بھارت کی نام نہاد سیکورٹی پالیسی آکسفورڈ یونین میں ممکنہ منطقی سوالات کا وزن نہ اٹھا سکی اور مباحثے کو سبوتاژ کر کے بھارتی وفد نے اپنی ممکنہ شرمندگی سے بچاؤ کیا، اس موقع پر پاکستان نے اپنے موقف کو واضح، مدلل اور پراعتماد انداز میں پیش کرنے کی مکمل تیاری کر رکھی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی میڈیا اور تجزیہ کاروں کو جب کھلی بحث کا موقع ملا تو غائب ہو گئے، آکسفورڈ یونین میں بھارتی وفد کی غیرحاضری مئی 2025 کے بعد سے جاری بھارتی سفارتی و بیانیے کی ناکامی کی تازہ کڑی ہے۔
ہائی کمیشن نے واضح کیا کہ پاکستان علمی، قانونی اور دلیل پر مبنی مکالمے کے ذریعے ہر فورم میں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے تیار ہے، اور بھارتی پسپائی نے عالمی سطح پر ان کے موقف کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا۔