Daily Mumtaz:
2026-07-24@06:14:56 GMT

جدیدمیزائل سسٹم وطیاروں نے بھارتی غرورخاک میں ملایا

اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT

جدیدمیزائل سسٹم وطیاروں نے بھارتی غرورخاک میں ملایا

اسلام آباد(طارق محمود سمیر) پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اس خطرناک حد تک بڑھی کہ باضابطہ جنگ شروع ہوگئی اور پاکستان کی مسلح افواج نے انتہائی جرات مندی اور اپنی اعلیٰ قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب بھارت کے 26فوجی تنصیبات کو کامیابی کیساتھ نشانہ بنایا تو مودی سرکار کے ہوش ٹھکانے آئے ، سپر پاور امریکہ کھل کر میدان میں آیا اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے بڑے چودھری کے طور پر جنوبی ایشیا کے دو اہم ممالک میں سیز فائز کرادیا ، جب سے پہلگام کا واقعہ ہوا تھا بھارت نے دس منٹ میں ایف آئی آردرج کر کے اپنی توپوں کا رخ سیاسی مقاصد کیلئے پاکستان کی طرف کردیا اور خطے میں جنگ کا ماحول بنایا ،وزیراعظم شہبازشریف نے عالمی سطح پر غیر جانبدارنہ تحقیقات کی تجویز دی جسے بھارت نے تسلیم نہیں کیا،صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب 6اور7مئی کی درمیان رات کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، مساجد اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا لیکن اسی اثناء میں پاکستان کی فضائیہ نے جے ایف 17تھنڈر اور جے سی 10 چینی طیاروں کو فضاء میں اڑا کر بھارت کو پہلے رائونڈ میں عبرتناک شکست دی ، رافیل سمیت بھارت کے پانچ طیارے تباہ ہوئے ، اس پر بھارت کے اندر پاکستانی فضائیہ کی برتری قائم ہوئی اور مودی حکومت نے پریشانی میں اسرائیلی ڈرون حملے کئے جنہیں پاکستان کی مسلح افواج نے کامیابی سے ناکارہ بنایا، رات گئے بھارت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر حملہ کیا اور میزائل فائر کئے ، یہ میزائل پاکستان کی تین اہم ایئر بیسز نور خان ، مریدکے اور شورکوٹ تک پہنچنے جبکہ سندھ کے اندر بھی ایک ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا ،رحیم یارخان ایئرپورٹ کو بھی نقصان پہنچا جس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ اعلان کیا کہ بھارت پاکستانی جواب کیلئے تیار رہے ، ان کے اس اعلان کے چند منٹ بعد ہی پاکستانی فضائیہ نے ابدالی ہو یا فتح میزائل اورجے ایف 17طیاروں کے ذریعے جب بھارت پر بھرپور وار کیا اور بھارت کے ان 26 مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے بھارت پاکستان پر حملے کر رہا تھا ان میں پٹھانکوٹ ،آدم پور، ادھم پور، بٹھنڈا، سورت گڑھ، مامون، اکھنور، جموں، سرسہ اور برنالہ کی ائیر بیسز اور فیلڈز کو تباہ کیا، بھارتی اڑی فیلڈ سپلائی ڈپو، سرسہ اور ہلواڑا ائیر فیلڈز بھی تباہ کیںاور دنیا میں پیغام چلا گیا کہ پاکستان نے بھارت کو دوسرے رائونڈ میں بھی عبرتناک شکست دے دی ہے ، بھارت میں صف ماتم بھی بچھ گیا ، اسی اثناء میں وہی امریکی صدر جو کل تک یہ کہہ رہا تھا کہ پاکستان اور بھارت آپس میں معاملات طے کر لیں ،میدان میں آئے اور اپنے وزیرخارجہ کی ڈیوٹی لگائی جنہوں نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم ، وزرائے خارجہ ،قومی سلامتی کے مشیروں سے رابطے کئے اور ان رابطوں کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کا رابطہ ہوا اور سہ پہرساڑھے چار بجے دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد اور دہلی سے سیز فائر کا اعلان کیا گیا، اس باضابطہ اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک ٹویٹ آیا کہ پاکستان اوربھارت سیز فائر پر تیار ہوگئے ہیں جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ کا بھی ٹویٹ آیا جس میں انہوں نے اپنے رابطوں کی تفصیلات بتائیں اور یہ اعلان کیا کہ نیوٹرل مقام پر جلد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہوں گے جس میں مسائل حل کرنے پر بات چیت ہوگی ، پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں فوج نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا اس پر پاکستانی قوم کے اندر ایک مرتبہ پھر یہ جذبہ پیدا ہوا ہے کہ بھارت جیسا مکار دشمن پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، ہماری مسلح افواج ملکی دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہوتی ہے ، ایئر فورس کی اعلیٰ قابلیت اور تربیت اور جدید طیارے اور میزائل کا نظام بھارت کا غرور خاک میں ملانے میں معاون ثابت ہوئے ، یہاں اگر چین ،ترکیہ اور آذربائیجان کا ذکر نہ کیا جائے تو زیادتی ہوگی ، ان تینوں ممالک نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ چند روز میں کیا صورتحال بنتی ہے ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے میں کردارادا کیا، سعودی عرب پاکستان کا قریبی اور دیرینہ دوست ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا آغاز سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں ہوگا جس کا طریقہ کار آئندہ چند دنوں میں طے کر لیا جائے گا ، سفارتی محاذ کے حوالے سے دیکھا جائے تو وزیراعظم شہبازشریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی بہت فعال کردارادا کیا ، تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اختلافات کو بھلا کر حکومت اور فوج کا ساتھ دیا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے درمیان پاکستان اور بھارت اور بھارت کے نشانہ بنایا کہ پاکستان پاکستان کی بھارت نے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس