City 42:
2026-06-03@02:07:24 GMT

پاکستان کے وزیر دفاع  نے بھارت کو بڑا چیلنج کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT

سٹی42: بھارت کی فضائیہ کے سربراہ کے مضحکہ خیز دعوے کے جواب میں پاکستان کے وزیر دفاع  نے بھارت کو بڑا چیلنج کر دیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے  6-10 مئی جنگ کے تین مہینے بعد  آج بھارتی ائیر فورس کے سربراہ کی جانب سے جنگ میں پاکستان کے چھ طیارے گرانے کے بچگانہ دعوے کے جواب میں بھارت کو اپنے طیاروں کی انوینٹری سامنے لانے کا چیلنج دے دیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی فضایہ کے تاخیر سے کیے گئے دعوے مضحکہ خیز اور ناقابل یقین ہیں۔ انہوں نے کہا،  بھارت کے جھوٹے بیانیے سیاسی مفاد کے لیے گھڑے گئے ہیں۔

 انٹرمیڈیٹ سائنس پری میڈیکل سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان، لڑکیوں نے تینوں ٹاپ پوزیشنزلےلیں

وزیر دفاع نے کہا کہ آپریشن سندور میں ایک بھی پاکستانی طیارہ تباہ نہیں ہوا، حقیقت یہ ہے جسے دنیا تسلیم کرتی ہے کہ  پاکستان نے 6 بھارتی طیارے، ایس 400 سسٹم اور متعدد ڈرونز تباہ کیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آپریشن بنیانن مرصوص میں ثابت ہو چکا پاکستان اپنی خود مختاری پر فوری جواب دے گا، خطے کے امن کو لاحق خطرات کی ذمہ داری بھارتی قیادت پر ہوگی۔

"اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کیجئے"; بھارت میں 'الیکشن چوری' کا ایک اور سکینڈل سامنے آ گیا


واضح رہے کہ مودی سرکار نے پاکستان پر بلا اشتعال جارحانہ حملے " آپریشن سندور" میں بری طرح مار کھانے کے تین ماہ بعد اپنی پارلیمنٹ میں اس موضوع پر بحث کرنے کی اجازت دی ہے، پارلیمنٹ میں مزید بے عزتی ہونے کے بعد مودی سرکار نے اپنی  ناکامی چھپانے کی آج ایک اور مضحکہ خیز کوشش کی ہے جس میں اس کے بھارتی ایئرچیف نے 6 پاکستانی طیارے مارگرانے کا بیان دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ایئر چیف نے مضحکہ خیز دعویٰ بنگلور میں ایک میموریل لیکچر کے دوران کیا۔

لاہور: بزرگ خاتون کے کانوں سے سونے کی بالیاں نوچ لی گئیں

بھارتی ایئرچیف نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے پاکستان کے پانچ لڑاکا اورایک ریڈار طیارہ تباہ کیے۔

اس سے پہلے کئی روز تک خٓموش رہنے کے بعد  پاکستان کی طرف سے بھارتی طیاروں کی تباہی کا اعتراف خود بھارتی آرمی چیف بھی کرچکے ہیں۔

 وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ بھارتی فوج کے سینئر افسران کو ان ناکامیوں کا چہرہ بنایا جا رہا ہے، جو دراصل بھارتی سیاسی قیادت کی اسٹریٹجک کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔

اسپین کی تاریخی مسجد قرطبہ میں آگ لگ گئی

 خواجہ آصف نے کہا کہ تین ماہ تک بھارت کی جانب سے کوئی ایسا دعویٰ سامنے نہیں آیا جبکہ پاکستان نے فوری طور پر بین الاقوامی میڈیا کو تفصیلی تکنیکی بریفنگز دیں اور غیر جانب دار مبصرین اور غیر ملکی انٹیلی جنس رپورٹس نے متعدد بھارتی طیاروں، بشمول رافیلز کی تباہی کی تصدیق کی، جس کا اعتراف بعض عالمی رہنماؤں اور بھارتی سیاست دانوں نے بھی کیا۔

 انہوں نے کہا کہ بھارت ایک بھی پاکستانی طیارہ نشانہ بنانے میں ناکام رہا، پاکستان نے 6 بھارتی جنگی طیارے، ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹمز اور بھارتی ڈرونز تباہ کیے اور ساتھ ہی کئی بھارتی فضائی اڈوں کو بھی ناکارہ بنا دیا۔

 خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا، پاکستان نے بھارت کو چیلنج کیا کہ دونوں ممالک اپنے طیاروں کی فہرستیں آزاد ماہرین کے سامنے پیش کریں تاکہ حقیقت دنیا پر آشکار ہو لیکن خدشہ ہے بھارت ایسا کرنے سے کترائے گا۔

 وزیردفاع نے بتایا کہ جنگیں جھوٹ سے نہیں بلکہ اخلاقی برتری، قومی عزم اور پیشہ ورانہ مہارت سے جیتی جاتی ہیں، اس طرح کے بیانات نہ صرف عوام کو گمراہ کرتے ہیں بلکہ ایک ایٹمی خطے میں خطرناک اسٹریٹجک غلط حساب کتاب کا باعث بن سکتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیانِن مرصوص کے دوران بھی پاکستان نے واضح کر دیا تھا کہ اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ہر خلاف ورزی کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا اور کسی بھی ممکنہ بگڑتی صورت حال کی ذمہ داری ان بھارتی رہنماؤں پر عائد ہوگی جو قلیل مدتی سیاسی فائدے کے لیے خطے کے امن کو داؤ پر لگاتے ہیں۔

تنازعہ کیا ہے؟
آپریشن سندھور اور آئی اے ایف کا مضحکہ خیز دعویٰ
9 اگست 2025 کو، ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے  اچانک دعویٰ کیا کہ 6 مئی والی جنگ کے دوران - ہندوستان کی پاکستان کے خلاف فضائی مہم - کے دوران چھ پاکستانی طیاروں کو مار گرایا گیا:  امر پریت سنگھ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان میں سے ایک طیارے  کو تقریباً 300 کلومیٹر کے فاصلے پر گرایا گیا تھا، جو کہ ہندوستان کی سب سے طویل ریکارڈ شدہ سطح سے ہوا میں  میزائل سٹرائیک تھی۔ سنگھ نے اس "کامیابی"  کا سہرا جدید S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم کو دیا اور اسے "گیم چینجر" قرار دیا۔


 حقیقت؛

انڈیا کا اسرائیل کے ذریعہ حاصل کیا ہوا روسی ایس 400 ائیر ڈیفینس سسٹم چھ مئی سے نو مئی کی جنگ کے دوران ریت کی دیوار ثابت ہوا تھا، انڈیا نے نو اور دس مئی کی درمیانی رات جب پاکستانی ائیر بیسز پر میزائلوں سے حملے کی جسارت کی تو پاکستان نے مختصر دورانئے کے جواب میں شمالی انڈیا میں موجود دو ایس چار سو ائیر ڈیفینس سسٹم منٹوں میں تباہ کر دیئے تھے اور نئی دہلی تک انڈیا کی فضا کو عملاً مسخر کر لیا تھا۔ 

اس سے قبل، پاکستان نے  چھ مئی اور سات مئی کی درمیانی رات انڈیا کے پاکستانی مساجد پر حملوں کے کچھ ہی دیر بعد اعلان  کیا تھا کہ اس نے فرانس کے ساختہ  رافیل سمیت  سات ہندوستانی طیاروں کو مار گرایا تھا، اور کچھ دن بعد  فرانس کے ائیر چیف نے ایک رافیل سمیت تین ہندوستانی لڑاکا طیاروں کے نقصانات کے شواہد کو تسلیم کیا ،  اس کے بعد کئی انٹرنیشنل نیوز  آؤٹ لیتس نے تصدیق کی کہ انڈیا کے طیارے مار گرائے گئے تھے۔ اس کے جواب میں انڈیا نے پاکستان کا کوئی طیارہ گرانے کا دعویٰ تک نہیں کیا۔

بھارت کے اندر سے تنقید
انڈین کانگریس پارٹی نے آج امر پریت سنگھ کے پاکستانی طیارے گرانے کے دعوے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح کی "اہم فوجی پیش رفت"  کو شیئر کرنے میں حکومت کی تاخیر پر تنقید کی اور وزیر اعظم کے دفتر سے مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: بنیانن مرصوص خواجہ ا صف نے صف نے کہا کہ کے جواب میں پاکستان نے پاکستان کے مضحکہ خیز وزیر دفاع کے دوران بھارت کو کہ بھارت صف نے کہ چیف نے کیا کہ

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی