Express News:
2026-06-03@00:44:19 GMT

سیاسی انتشارکا خاتمہ، ضروری مگر ہو کیسے؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT

2017میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی متنازع عدالتی نااہلی کے باعث شاہد خاقان عباسی نے اپنی پارٹی میں الگ بات کرنے کی ایک کوشش کی تھی۔ پھر مسلم لیگ ن کے ہی ایک اور رہنما مفتاح اسمٰعیل سے مل کر اپنی الگ سیاسی پارٹی بنائی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنما اور خیبر پختو نخوا کے سابق وزیر اعلیٰ سردار مہتاب عباسی بھی ان کے ہم سفر بن گئے اور کوئٹہ جا کر شاہد خاقان عباسی نے بلوچ رہنما لشکری رئیسانی کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک میں سیاسی انتشار کے خاتمے تک ملک آگے نہیں جا سکتا۔ سیاسی انتشار کا خاتمہ کیسے ہوگا وہ طریقہ سابق وزیر اعظم نے نہیں بتایا اور نہ ان کی پارٹی کی اس وقت اتنی سیاسی حیثیت ہے کہ وہ ملک سے سیاسی انتشار کے خاتمے میں کوئی کردار ہی ادا کر سکے کیونکہ کسی سابق وزیر اعظم کا نیا کردار ایسا ہوتا ہے نہ ان کے پارٹی بنا لینے سے ملکی سیاست میں بہتری ممکن ہے۔

بلوچستان کی سابق حکمران پارٹی باپ کے سینیٹر دنیش کمار نے ملک سے سیاسی انتشار کے خاتمے کے بجائے یہ تجویز دی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کرکے ہمارے دشمن ملک بھارت کو پاکستانی قوم کے متحد ہونے کا پیغام دیا جائے۔ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی بھی یہی سوچ ہے کہ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت صرف بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے اور موجودہ جنگی صورت حال میں سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی ہی رہا ہو کر ملک کو سیاسی انتشار سے بچا کر ملک کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور ایسی صلاحیت موجودہ حکمرانوں میں نہیں ہے۔

 ایک طرف پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا اپنے بانی کی رہائی کا مطالبہ ہے تو دوسری طرف اس کے 3 سال سے مفرور رہنما اور بانی کے دست راست مراد سعید پاک فوج اور موجودہ حکومت کے خلاف مذموم اور گمراہ کن اور ملک میں انتشار اور نفرت پھیلانے کے بیانات دے رہے ہیں مگر گرفتاری سے بچنے کے لیے خود سامنے نہیں آ رہے اور چھپے بیٹھے ہیں مگر انھیںاپنی پارٹی سے بھی مدد نہیں مل رہی اور ان پر پارٹی میں ہی سے الزامات لگ رہے ہیں کہ وہ صرف اپنی سیاست چمکا رہے ہیں اور عملی طور پر کچھ بھی نہیں کر رہے ۔ ملک میں سیاسی انتشار ہر دور میں رہا ہے۔ سیاسی حکومتیں اور جماعتیں خود ملک میں انتشار پھیلا کر غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت کا موقع دیتی رہی ہیں پھر ان کے خلاف اتحاد کرکے جدوجہد بھی کرتی رہیں۔

2014 میں بانی پی ٹی آئی نے (ن) لیگی حکومت کے خلاف دھرنا دے کر جمہوریت کو ڈی ریل کرنا چاہا تھا، پی پی اور (ن) لیگ نے ناکام بنا دیا تھا مگر پی ٹی آئی ملک میں سیاسی انتشار بڑھایا جو 2018 میں عروج پر پہنچا ۔ 2022 میں بانی کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے آئینی راستے سے ہٹایا گیا لیکن اس آئینی تبدیلی کو پی ٹی آئی نے قبول نہیں کیا اور بانی نے غیر ضروری جلسے کیے اور قبل از وقت اپنی پنجاب اور کے پی کی حکومتیں اپنے سیاسی مفاد کے لیے خود ختم کرا کر ملک میں انتشار انتہا پر پہنچایا تھا ۔

بانی کی قید، سزا و معاملات کے وہ خود ذمے دار ہیں ۔حکومت اگر بانی کو رہا بھی کرا دے تب بھی پی ٹی آئی اپنے اقتدار کے لیے حکومت کو چین سے نہیں بیٹھنے دے گی اور بانی رہا ہو کر سیاسی انتشار اپنے سیاسی مفاد کے لیے خود بڑھائیں گے تو حکومت کی پارٹیاں ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی سیاسی انتشار ملک میں کے لیے

پڑھیں:

سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان

(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔

مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔

 بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا