شہباز بھٹی ورکرز موومنٹ پاکستان کے نام سے نئی سیاسی جماعت کے قیام ،13نکاتی منشور کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 11 August, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس )اقلیتی امور کے سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے شہباز بھٹی ورکرز موومنٹ پاکستان کے نام سے نئی سیاسی جماعت اور اس کے 13 نکاتی منشور کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ معروف مسیحی لیڈر بشارت کھوکھر شہباز بھٹی ورکرز موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ہوں گے۔ ندیم مٹو کو پارٹی کا وائس چیئرمین مقرر کیا گیا ہے،داد بھٹی سیکرٹری جنرل جبکہ جوشوا ولیم کو پارٹی کا سیکرٹری فنانس مقرر کیا گیا ہے۔
فرانس میں موجود پارٹی چیئرمین بشارت کھوکھر نے اسلام آباد میں منعقدہ نیوز کانفرنس سے ٹیلی فون کے ذریعے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے دن کے موقع پر پارٹی کا قیام اس بات کا مظہر ہے کہ اقلیتیں پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھر پور کردار ادا کرنے کا جذبہ رکھتی ہیں۔ چیئرمین بشارت کھوکھر نے شہباز بھٹی ورکرز موومنٹ پاکستان کے قیام کے اغراض و مقاضد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کا مقصد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولوں کے مطابق شہید قائد شہباز بھٹی کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اقلیتوں سمیت پسے ہوئے تمام طبقات کو حقوق دلانے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نئی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے سیاسی کشیدگی، دہشت گردی فرقہ واریت اور جبری تبدیلی مذہب جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔
چیئرمین، شہباز بھٹی ورکرز موومنٹ پاکستان بشارت کھوکھر کا کہنا تھا کہ پارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں قائم کر دیا گیا ہے، پارٹی کی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹریشن کے لیے وکلا کا ایک وفد آئیندہ ہفتے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ باضابطہ طور پر رابطہ کرے گا۔ چاروں صوبائی دارلحکومتوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی تنظیمی ڈھانچہ جلد مکمل کیا جائے گا۔ ملک بھر میں پارٹی کے ضلعی دفاتر قائم کیے جائینگے اس مقصد کے لیے ملک بھر کے تنظیمی دوروں کا شیڈول ترتیب دیا جارہا ہے۔ پارٹی چیئرمین بشارت کھوکھر کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس میں موجود وائس چیئرمین ندیم مٹو، سیکرٹری جنرل داد بھٹی اور فنانس سیکرٹری جوشوا ولیم کا کہنا تھا کہ شہباز بھٹی ورکرز موومنٹ پاکستان دیگر متعدد جماعتوں کی طرح کسی کی عزت یا پگڑی اچھالنے پر یقین نہیں رکھتی یہ اپنی قابلیت اور منشور کے ذریعے ملک میں امن کی خواہاں ہے ۔پارٹی منشور کے حوالے سے پارٹی لیڈروں کا کہنا تھا کہ شہباز بھٹی ورکرز موومنٹ پاکستان کا منشور پاکستان کی ترقی، خوشحالی، سلامتی اور استحکام کے لیے ملکی اداروں کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا ہے۔
مذہب کی آڑ میں بنائے گئے تمام قوانین کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے بھی اداروں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اقلیتوں کی منتشر سیاسی و سماجی تنظیموں کو متحد، منظم اور متحرک کیا جائے گا۔ اقلیتی طلبہ کے لیے قومی و بین الاقوامی سطح پر تعلیمی مواقع پیدا کیے جائیں گے، اقلیتوں کی کمسن بچیوں کی جبری تبدیلی مذہب اور جبری گمشدگی کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے، ملک کے تمام اداروں میں اقلیتی نوجوانوں کو پانچ فیصد کوٹہ کے تحت ملازمتوں کو یقینی بنایا جائے گا، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ مذہبی رواداری کے لیے کام کیا جائے گا، ملک کی تمام مذہبی اقلیتوں کے لیے سیاسی و سماجی تفریق کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی جائے گی، بنیاد پرستی، مذہبی تنگ نظری، مذہبی تعصب اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔
دہشت گردی کے خلاف ملکی اداروں کے ساتھ مل کر عوامی شعور بیدار کرتے ہوئے پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے جدوجہد کی جائے گی، مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا،نوجوانوں، مزدوروں ،کسانوں، ہاریوں، طالب علموں اور خواتین کے ساتھ ساتھ ملک کی مذہبی اقلیتوں کے بنیادی و انسانی حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی، ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے لیے تمام مذہبی اقلیتوں کو حلقہ بندیوں کے ساتھ جداگانہ انتخابات کے ساتھ ساتھ قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ میں فیڈرل کی اقلیتی نشست میں اضافے کے لیے بھرپورجدوجہد اور عملی اقدامات کیے جائینگے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت کے چینی کی برآمد کرنے کی اجازت کے فیصلے سے بحران پیدا ہوا، کمپیٹیشن کمیشن نے رپورٹ پیش کردی حکومت کے چینی کی برآمد کرنے کی اجازت کے فیصلے سے بحران پیدا ہوا، کمپیٹیشن کمیشن نے رپورٹ پیش کردی عمران خان کے گھر کی نیلامی کی خبریں بے بنیاد ہیں، نیب ذرائع وزارت صنعت نے چینی کا استعمال کم کرنے کیلئے زیادہ ٹیکسز کی تجویز دیدی غیر رجسٹرڈ عازمین حج سے درخواستوں کی وصولی کا دوسرا مرحلہ شروع قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ڈی نوٹیفائی کرنیکا معاملہ، عمر ایوب، شبلی فراز کا پشاور ہائیکورٹ سے رجوع باجوڑ میں دہشتگردوں کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا آغاز، کئی علاقوں میں کرفیو نافذ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نئی سیاسی جماعت

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم