بھارتی جارحیت میں زخمی پاک فوج کے 2 مزید جوان شہید ہوگئے، فوج کے شہدا کی تعداد 13 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
گزشتہ دنوں بھارتی جارحیت کے نتیجے میں زخمی ہونے والے پاک فوج کے 2 مزید نوجوان شہید ہوگئے ہں جس کے بعد افواج پاکستان کے شہدا کی تعداد 13 ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی کل تعداد 78 ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی حملوں میں زخمی ہونے والے پاک آمری کے حوالدار محمد نوید اور پاک فضائیہ کے سینیئر ٹیکنیشن محمد ایاز زخموں کی تاب نہ لاکر شہید ہوگئے، یہ شہادتیں پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے، حب الوطنی اور احساس ذمہ داری کا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی حملوں میں 8 پاکستانی شہید ہوئے، دشمن کو منہ توڑ جواب دے رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاک فوج قوم کے ساتھ مل کر شہدا ان بہادر شہدا کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور ان کے لواحقین سے تعزیت کرتی ہے۔
پاک فوج کے مطابق شہدا کی قربانی قوم کی اجتماعی یادداشت امر ہوگئی ہے اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن بنیان المرصوص آئی ایس پی آر پاک فوج زخمی شہدا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن بنیان المرصوص ا ئی ایس پی ا ر پاک فوج پاک فوج کے ایس پی
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔