وزیراعظم شہباز شریف نے زیر تعمیر دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی پر کام تیز تر کرنے، ان کی اعلیٰ معیار کی تعمیر، تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن اور دانش اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت دانش اسکولز و یونیورسٹی کی حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں 15 نئے دانش سکولز کی تعمیر کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو ملک کے مختلف علاقوں میں زیر تعمیر دانش اسکولز اور دانش یونیورسٹی، اسلام آباد کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ دانش اسکول، اسلام آباد کا 41 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے، اسے دسمبر 2025 میں مکمل کر لیا جائے گا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان میں دانش اسکول ، سلطان آباد، گانچھے اور استور کو 30 جون 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، بھمبر اور باغ کے دانش سکولز جون 2026 میں مکمل ہوں گے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا شاردہ، ، سبی، موسیٰ خیل اور ژوب کے دانش سکولوں کی فزیبلٹی اور ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے ، حب، کراچی اور چترال کے دانش اسکولوں کے حوالے سے زمین کے حصول کی حوالے سے کام کیا جا رہا ہے۔

وفاقی کابینہ کی منظوری سے دانش یونیورسٹی کے حوالے سے زمین مختص کی جا چکی ہے۔

اجلاس نے یونیورسٹی کی فزیبلٹی ، ڈیزائن کی پری کوالیفکیشن کے لئے ماہر کنسلٹنٹ کی تعیناتی کا عمل شروع کرنے کی منظوری دی۔

وزیراعظم نے زیر تعمیر دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی پر کام تیز تر کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے دانش سکولز اور یونیورسٹی کی اعلیٰ معیار کی تعمیر اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ دانش اسکولز اور یونیورسٹی ملک کے مستحق لائق طلباء کو اعلیٰ معیار کی تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے حکومت کے ترجیحی منصوبے ہیں۔

انہوں نے دانش اسکولز کے تمام کلاس رومز میں سمارٹ بورڈ کی تنصیب اور ہر دانش اسکول میں ڈیجیٹل لائبریری بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے ہدایت کی کہ دانش اسکول میں اساتذہ کی تعیناتی کا عمل میرٹ پر مبنی اور انتہائی شفاف ہونا چاہئے، جس علاقے میں دانش تعمیر ہو رہا ہے وہاں کے مقامی اساتذہ کو ترجیح دی جائے۔

وزیراعظم نے دانش اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے تجاویز پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹریز، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے چیف کمشنر اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دانش یونیورسٹی دانش اسکولز کے حوالے سے دانش اسکول کی ہدایت اور دانش ہدایت کی کرنے کی

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم