آسام کے وزیراعلٰی کہا کہ ہماری حکومت کسی بھی وجہ سے ملک دشمن پاکستان کے حامیوں کو کوئی بخشش نہیں دیگی اور مہم جاری رہیگی۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سے آسام پولیس نے پاکستان کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے الزام میں کئی لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ریاست کے وزیراعلٰی ہمانتا بسوا سرما ہر روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان گرفتاریوں کی معلومات دے رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب تک آسام کے 21 مختلف اضلاع میں 58 سے زیادہ گرفتاریاں کی جا چکی ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں طالب علم، صحافی اور سماجی کارکن شامل ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ جیسی صورتحال بھلے ہی ختم ہوگئی ہو لیکن آسام میں گرفتاریاں اب بھی جاری ہیں۔ پہلگام واقعے کے بعد آسام حکومت نے کل 58 لوگوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ یہ بات آسام کے وزیراعلٰی ہمانتا بسوا سرما نے کہی۔ بسوا سرما نے سوشل میڈیا پر ملک مخالف سرگرمیوں کے لئے مزید دو افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی۔ گرفتار افراد کی شناخت شکور علی اور فضل علی کے طور پر کی گئی ہے۔

آسام کے وزیراعلٰی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا " 58 پاکستان حامی اب سلاخوں کے پیچھے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ ریاست گیر کارروائی جاری رکھتے ہوئے ان کی ملک دشمن سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے مزید لکھا "کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا"۔ ریاست کے وزیراعلیٰ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آسام حکومت کسی بھی وجہ سے ملک دشمن پاکستان کے حامیوں کو کوئی بخشش نہیں دے گی اور مہم جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آسام میں ملک دشمن افراد یا گروہوں کے ساتھ کبھی کوئی نرمی نہیں کی ہے اور ہماری مہم غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی، اس سلسلے میں کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اب تک ملک مخالف سرگرمیوں کے الزام میں آسام میں گرفتار اور جیل میں بند 58 لوگوں میں ایک ایم ایل اے بھی شامل ہیں۔ ڈھنگ اسمبلی حلقہ سے آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ایم ایل اے امین الاسلام اب بھی ناگون سینٹرل جیل میں بند ہیں۔ پہلگام واقعے کے بعد ایم ایل اے امین الاسلام کو 24 اپریل کو ایک عوامی میٹنگ میں مبینہ طور پر پاکستان کے حق میں تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امین الاسلام کی سماعت منگل 13 مئی کو ناگون عدالت میں ہونی تھی، لیکن انہیں پیش نہیں کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے الزام میں کے وزیراعل ی سوشل میڈیا ملک دشمن

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار