پس پردہ کوششیں، حکومت، PTI مذاکرات کے امکانات روشن
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے امکانات پس پردہ رابطوں کے نتیجے میں روشن ہوگئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکانِ پارلیمنٹ کی اکثریت، جن میں بعض حال ہی میں سزا یافتہ ارکان بھی شامل ہیں، باضابطہ مذاکرات کے آغاز کے حق میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق، قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اس عمل میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور دونوں فریقین سے رابطے میں ہیں۔ نون لیگ کے رانا ثناء اللہ سمیت حکومت کے بعض رہنما بھی پی ٹی آئی سے بات چیت کیلئے تیار ہیں، باوجود اس کے کہ پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان اس وقت حکومتی نمائندوں سے بات کرنے کیلئے آمادہ نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی کئی مرتبہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اب پی ٹی آئی کے زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بامعنی بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
تاہم، خدشہ ہے کہ عمران خان ایک مرتبہ پھر اس عمل کو روک سکتے ہیں۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے پی ٹی آئی ارکان یہ سوچ رہے ہیں کہ جیل میں قید اپنے رہنما بانی چیئرمین عمران خان سے گروپ کی صورت میں ملاقاتیں کریں تاکہ انہیں اپنے موقف پر نظرثانی پر آمادہ کیا جا سکے۔
پی ٹی آئی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ بعض غیر منتخب افراد، جنہیں عمران خان تک براہِ راست یا بالواسطہ رسائی حاصل ہے، انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ یہ غیر منتخب افراد عمران خان کو قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کی پالیسی اپنانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
ایک ذریعے نے کہا کہ ایسی صورتحال کو روکنا ہوگا۔ عمران خان کے اس فیصلے پر بھی پارٹی کے اندر اختلافات ہیں کہ وہ ان نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے جو پی ٹی آئی کے ارکان کی سزا یا نااہلی کے باعث خالی ہوئی ہیں۔
کچھ ارکان، جن کے خاندان کئی دہائیوں سے انتخابات لڑتے آئے ہیں، کہتے ہیں کہ بائیکاٹ کا مطلب اپنے حلقے سیاسی حریفوں کے حوالے کرنا ہوگا۔ مذاکرات کے حامی گروپ کو امید ہے کہ سینئر رہنما شاہ محمود قریشی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جو 9؍ مئی سے متعلق تین مقدمات میں بری ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ چند ماہ میں دیگر مقدمات میں بھی انہیں ضمانت مل جائے گی۔
انہیں ایک ایسے تجربہ کار سیاستدان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو پارٹی کو بات چیت کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسپیکر ایاز صادق کی تازہ پیشکش، دونوں فریقین کے درمیان کئی دن کے خاموش رابطوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی بڑھتی تعداد کا خیال ہے کہ محاذ آرائی اور احتجاج کی پالیسی نے ان کے سیاسی مسائل حل کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیے ہیں۔
(انصار عباسی)
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کے مذاکرات کے سکتے ہیں
پڑھیں:
دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
اسکردو میں پی پی پی کے جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری(bilawal bhutto zardari) نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں گلگت بلتستان کا دورہ کیا، جی بی کے اضلاع میں جتنا میں آیا ہوں اتنا کوئی اور سیاستدان نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں خامنہ ای کو شہید کیا گیا، ان حالات میں یہاں انتخابی مہم چلانا مناسب نہیں سمجھا۔
پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔ امن کوششیں کامیاب ہونا ضروری ہے، ایران کے ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرنے والی واحد سیاسی جماعت ہے، یہ کیسی معاشی پالیسی اور ترقی ہے کہ امیر، امیر تر ہو۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اسلام آباد کا وہ واحد ادارہ ہے، جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی، بجٹ میں وزیراعظم بی آئی ایس پی کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے۔
مزید پڑھیں: کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
پی پی چیئرمین نے کہا کہ ایٹم بم ذوالفقار بھٹو اور میزائل ٹیکنالوجی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے دی، جی بی کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا، جی بی کو نام صدر زرداری نے دیا۔