بھارتی جارحیت کے متاثرین کے لیے وفاقی حکومت کی مالی امداد، شہداء کو ایک کروڑ، زخمیوں کو 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام بھارتی گولہ باری سے شہید ہونے والے راج محمد چوہان اور اسلم بٹ شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے فارورڈ کہوٹہ پہنچ گئے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایل او سی پر بسنے والے عوام گزشتہ سات دہائیوں سے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام اور افواج پاکستان ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایل او سی پر رہنے والوں نے جس جرات اور دلیری سے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔
امیر مقام نے بتایا کہ وہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت بھارتی گولہ باری سے شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے جبکہ زخمی افراد کو 20 لاکھ روپے کے امدادی چیکس اگلے ہفتے فراہم کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگ افواج پاکستان سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں، یہاں کا بچہ بچہ سپاہی ہے۔ ہمارے آبا و اجداد نے 1947 میں پیدل آ کر یہ خطہ آزاد کروایا۔
امیر مقام نے کہا کہ افواج پاکستان نے جذبہ ایمانی سے لڑتے ہوئے فاشسٹ مودی کے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان اور افواج پاکستان ایل او سی کے عوام کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر محاذ پر کشمیریوں کی معاشی، سیاسی، اقتصادی اور سفارتی مدد جاری رکھے گا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افواج پاکستان نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔