کانگریس کا "آپریشن سندور" پر مودی کی خاموشی کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں نکالنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
کانگریس کے سینیئر لیڈروں کی میٹنگ کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی فوجی کارروائی کو اپنے لئے ایک "برانڈ" بنانے کی کوشش کررہی ہے جب یہ آپریشن مسلح افواج اور ملک کا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس نے بی جے پی پر "آپریشن سندور" کو لیکر "سیاست" کا کھیلنے کا الزام لگایا۔ کانگریس نے اعلان کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کرنے کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعووں پر وزیراعظم کی خاموشی اور آپریشن کو روکنے پر سوال کرتے ہوئے ملک بھر میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش اور پارٹی کے میڈیا و پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیرا نے پارٹی کے سینیئر لیڈروں کی میٹنگ کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی فوجی کارروائی کو اپنے لئے ایک "برانڈ" بنانے کی کوشش کر رہی ہے جب یہ آپریشن مسلح افواج اور ملک کا ہے۔
کانگریس نے اعلان کیا کہ آنے والے دنوں میں حکومت سے جواب مانگنے کے لئے مختلف ریاستوں میں ریلیاں منعقد کی جائیں گی اور پارٹی لیڈر راہل گاندھی جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ کانگریس نے اپنے 24 اکبر روڈ دفتر میں سینیئر لیڈروں بشمول سابق کانگریس صدر راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، جئے رام رمیش، پرینکا گاندھی واڈرا اور سچن پائلٹ کی میٹنگ کے بعد یہ دعویٰ کیا۔ رمیش نے کہا کہ میٹنگ میں پارٹی کی طرف سے ایک قرارداد منظور کی گئی۔ گزشتہ 20 دنوں میں کانگریس کے سینیئر لیڈروں کی یہ تیسری میٹنگ تھی۔ رمیش نے کہا کہ 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سے کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی نے مودی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا اور آپریشن سندور کا خیرمقدم کیا۔
جئے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیوں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم اس پر کچھ نہیں کہتے۔ میڈیا رپورٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم 25 مئی کو این ڈی اے کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کر رہے ہیں، لیکن غیر این ڈی اے وزرائے اعلیٰ کو چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا "آپریشن سندور پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے، وزیر اعظم صرف 25 مئی کو این ڈی اے کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ کیوں کر رہے ہیں"۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رمیش نے کہا کہ سینیئر لیڈروں کانگریس نے کانگریس کے کرتے ہوئے کی میٹنگ کے بعد
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔