Daily Ausaf:
2026-06-03@03:13:35 GMT

قرآن و سنت پر عمل دنیا و آخرت میں کامیابی

اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT

(گزشتہ سےپیوستہ)
معاشرہ اور عادات اور قومی شعائر میں مشابہت اختیار کرنا ، مثلاًکسی قوم کا مخصوص لباس استعمال کرنا جو خاص ان ہی کی طرف منسوب ہو اور اس کا استعمال کرنے والا اسی قوم کا فرد سمجھاجانے لگے جیسے سر پر عیسائی ٹوپی(ہیٹ) رکھنا، ہندوانہ دھوتی، جوگیانہ جوتی وغیرہ یہ سب مکروہ تحریمی اور ناجائز وممنوع ہیں اور فخر کی نیت سے استعمال کی جائیں تو اور بھی زیادہ گناہ ہے۔اسی طرح انگریزی زبان، ان کے لب ولہجے اور طرز کلام کو اس لئے اختیار کیا جائے کہ ہم بھی انگریزوں کے مشابہ بن جائیں اور ان کے زمرے میں داخل ہوجائیں یا سنسکرت اس لئے سیکھی جائے کہ پنڈتوں کی مشابہت ہو اور وہ بھی ہمیں اپنے زمرے میں شمار کریں تویہ مشابہت بھی ممنوع ہے ، البتہ اگر ان لوگوں کی مشابہت مقصود نہ ہو ، محض ضرورت کی بنا پر ان کی زبانیں سیکھی جائیں تاکہ ان کی اغراض سے واقفیت اور آگاہی حاصل ہو اور ان کے خطوط پڑھ سکیں اور ان سے تجارتی اور دنیاوی امور میں خط وکتابت کرسکیں تو اس صورت میں غیروں کی زبان سیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
غرض کسی بھی چیز کا استعمال غیروں کی مشابہت کی نیت سے اور دشمنان دین کی مشابہت کے ارادے سے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے دل میں ان کی طرف رغبت اور میلا ن ہے، اللہ تعالیٰ کویہ گوارہ نہیں کہ اس کے دوست اور نام لیوا(یعنی مسلمان) اس کے دشمنوں(یعنی کافروں)کی مشابہت اختیار کرنے کی نیت وارادے سے کوئی کام کریں۔شیخ الاسلام علامہ ابن ِ تیمیہ نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’اقتضا الصراط المستقیم‘‘ میں اس مسئلے پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ وہ تحریر فرماتے ہیں،غیروں کی مشابہت اختیار کرنے میں بہت سے نقصانات ہیں ، ہم نہایت اختصار کے ساتھ ذیل میں درج کرتے ہیں۔کفر اور اسلام میں ظاہری طور پر کوئی امتیاز باقی نہ رہے گا اور حق مذہب یعنی اسلام دیگر مذاہب باطلہ کے ساتھ بالکل مل جائے گا ۔ غیروں کا معاشرہ اور تمدن اور لباس اختیار کرنا درحقیقت ان کی سیادت اور برتری تسلیم کرنے کے مترادف ہے ، نیز اپنی کم تری اورکہتری اور تابع ہونے کا اقرار واعلان کا اظہار ہے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے تمام اقوام پر برتری عطا فرمائی ہے اور پوری دنیا کا حکمران اور معلم بنایا ہے ، حاکم اپنے محکوم کی تقلید کا حکم کیوں کردے سکتا ہے ؟غیروں سے مشابہت اختیار کرنے سے ان کے ساتھ محبت پیداہوتی ہے ، جب کہ اسلام میں غیروں سے دلی محبت واضح طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے۔آہستہ آہستہ ایسا شخص اسلامی تمدن کا استہزا اور تمسخر کرنے لگتا ہے ، ظاہر ہے کہ اسلامی تمدن کو اگر اہمیت دیتا اور اسے حقیر نہ سمجھتا تو غیروں کی تمدن کو اختیار ہی نہ کرتا ؟ جب اسلامی وضع کو چھوڑ کر اغیار کی وضع اختیار کرے گا تو قوم میں اس کی عزت باقی نہ رہے گی ، ویسے بھی نقل اتارنے والا خوشامدی کہلاتا ہے۔ دعویٰ اسلام کا ، مگر لباس، کھاناپینا، معاشرت ،تمدن ، زبان اور طرز زندگی یہ سب کام اسلام کے دشمنوں جیسا اختیار کرنے کا معاذاللہ یہ مطلب نکلتا ہے کہ لاو ہم بھی غیر مسلم بنیں اگر چہ صورت ہی میں سہی،دوسری قوموں کا طرز زندگی اختیار کرنا اسلام اور اپنی مسلم قوم سے بے تعلقی کی دلیل ہے۔غیروں کی مشابہت اختیار کرنا غیرت اور حمیت کے خلاف ہے۔غیروں کا مشابہت اختیار کرنے والوں کے لئے اسلامی احکام جاری کرنے میں دشواریاں پیش آتی ہیں ، مسلمان اس کی شکل وصورت دیکھ کرگمان کرتے ہیں کہ یہ کوئی یہودی یا عیسائی یا ہندو ہے۔سلام جیسی پیاری دعا سے محروم رہتا ہے، دنیا میں اس کی گواہی بھی تسلیم نہیں کی جاتی ، اگر کوئی لاش، کافر نما مسلمان کی مل جاتی ہے تو تردد ہوتا ہے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے اور اس کو کس قبرستان میں دفن کیا جائے؟جو لوگ غیروں کے معاشرے کو اپنا محبوب معاشرہ بناتے ہیں وہ ہمیشہ ذلیل وخوار رہتے ہیں، کیوں کہ عشق ومحبت کی بنیاد تذلیل پر ہے یعنی عاشق کو ہمیشہ اپنے معشوق کے سامنے ذلیل وخوار بن کر رہنا پڑتا ہے۔اس قدر مفاسد کے ہوتے ہوئے اپنے دشمنوں کے معاشرے کو پسند کرنا اور اسے عزت وشوکت کی چیز سمجھنا ، انبیا کرام اور صلحا کی مشابہت سے انحراف کرکے اغیار کی مشابہت اختیار کرنا اور ان کے معاشرے میں رنگ جانا ، یقینا ہماری ذلت ورسوائی ، بے غیرتی اور انحطاط اور تنزلی کا سبب ہے ، اس میں عزت ووقعت ہر گز نہیں ہے اور نہ ہی اس سے دشمنان اسلام مسلمانوں سے خوش ہوں گے ، تاوقتیکہ ان ہی کے مذہب کے پیروکار نہ بن جائیں ۔
قرآن مجید نے صاف کہہ دیا ہے اور یہود ونصاریٰ تم سے کبھی خوش نہ ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کی اتباع نہ کرنے لگو۔(البقرہ آیت120) اسلام ایک نور اور کامل ومکمل اور حق مذہب ہے اور تمام مذاہب کا ناسخ بن کر آیا ہے ، وہ اپنے ماننے والوں کو کفر وشرک کی ظلمت اور تاریکی سے نکال کر نور کی طرف اور باطل سے ہٹاکر حق کی طرف اور ذلت سے ہٹا کر عزت کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ ایسے مذاہب جو ناقص اور منسوخ ہوچکے ہیں ان کے پیرووں کی مشابہت اختیار کی جائے ، غیروں کی مشابہت اختیار کرنا اسلامی غیرت وحمیت کے خلاف ہے۔اسلام جس طرح اپنے اعتقادات وعبادات میں مستقل ہے کسی کا تابع دار اور مقلد نہیں ، اسی طرح وہ اپنے معاشرے اور عادات میں بھی مستقل ہے ، کسی دوسرے کا تابع ومقلد نہیں ۔
اسلام کی نام لیوا ’’حزب اللہ‘‘یعنی اللہ کی جماعت ہے ، ان کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اغیار کی ہیئت اختیار کریں جس سے دوسرے دیکھنے والوں کو اشتباہ پیدا ہو۔غالباکسی حکومت میں ایسا نہیں ہے کہ اس سلطنت کی فوج دشمنوں کی فوج کی وردی استعمال کرے ، جو سپاہی ایسا کرے گا وہ باغی قرار دیاجائے گا اور دشمن کی جماعت اپنا کوئی امتیازی لباس یا نشان اختیار کرے تو حکومت اپنے وفا داروں کو ہر گز ہرگز اس باغی جماعت کا نشان اختیار کرنے کی اجازت نہ دے گی ، کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک حکومت اپنی فوج کو دشمن کی شناخت اختیار کرنے کو جرم قرار دے کیونکہ وہ اس حکومت کی دشمن ہے ، مگر اللہ کے رسول ﷺکو یہ حق حاصل نہ ہو کہ وہ دشمنان خدا کی وضع قطع کو جرم قراردیں ، کیوں نہیں من تشبہ بقوم فھو منھم ،جو خدا کے دشمنوں کی مشابہت اختیار کرے گا اور ان ہی کی وردی اور ان ہی کا طور طریقہ اور معاشرت اختیار کرے گا تو وہ بلاشبہ دشمنان خدا کی فوج میں سمجھا جائے گا ۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،کیا مسلمانوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر اور اس کے نازل کردہ حق کے سامنے ان کے دل جھک جائیں اور ان لوگوں کے مشابہ نہ بنیں جن کو پہلے کتاب دی گئی(یعنی یہود ونصاریٰ)جن پر زمانہ دراز گزرا، پس ان کے دل سخت ہوگئے اور بہت سے ان میں بدکار ہیں۔(حدیدآیت16)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مشابہت اختیار کرنا مشابہت اختیار کرنے کی مشابہت اختیار غیروں کی مشابہت اختیار کرے ہے کہ اس کرے گا ہے اور کی طرف اور اس اور ان

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی