کراچی:

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارتی فوج ہماری بری اور فضائی افواج سے پٹائی دیکھ کر ہماری بحری فوج سے لڑنے کو تیار ہی نہیں ہوئی ورنہ پاکستان نیوی ایک بار پھر آپریشن دوارکا کی یاد تازی کردیتی۔

یہ بات انہوں ںے پاکستانی نیوی ڈاکیارڈ کے دورے میں نیوی کے افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ قبل ازیں انہوں نے نیوی کے افسران و جوانوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ان کے ہمراہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور دیگر موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج بری اور فضائی پٹائی دیکھ کر اور ہماری بحری فوج کی تیاری کو دیکھ کر پاکستانی نیوی سے لڑ کر مزید پٹنے اور رسوا ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔

کشیدہ صورتحال میں قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی رہی، بہادر افواد میں مربوط تعاون سنہری باب ہے پاکستانی عوامی بھی اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

بھارتی مہم جوئی میں دنیا میں ایک بار پھر دیکھ لیا کہ ہماری بحریہ مکمل طور پر تیار تھی، بحری ہتھیار مقررہ پوزیشن پر نصب کردیے گئے تھے ہماری بحریہ 1965ء کی طرح ایک بار پھر دوارکا کے لیے تیار تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ کی تیاری مثالی تھی، پاک بحریہ نے بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کا بھرپور تحفظ کیا، ہمیں پاک بحریہ کی غیرمعمولی کارکردگی پر فخر ہے، جدید ٹیکنالوجی کےسبب اس کی کارکردگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے ایک بار پر ترکیہ کے صدر، سعودی ولی عہد، صدر یو اے ای، امیر قطر، آذر بائیجان کے صدر اور دیرینہ دوست چین کا ایک بار پھر شکریہ ادا کیا، انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ٹرمپ از آ مین آف پیس جنہوں ںے عین موقع پر دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ بند کرائی میں دل کی گہرائیوں سے ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ایک خیر خواہ دوست کا کردار ادا کیا اور یہاں تک کہا کہ وہ کشمیر کے حوالے سے بھی ایک مخلصانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایک بار پھر انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا