بھارت نے 54 سال بعد اس پاکستان پر حملہ کیا جو اب 1971 کی جنگ سے قبل کا پاکستان نہیں، جسکا نصف سے زیادہ حصہ جدا کروا کر بنگلہ دیش بنوانے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔
بھارت پاکستان کے دو صوبوں میں دہشت گردی کرا رہا ہے، بلوچستان میں بھارت سالوں سے بی ایل اے، مجید بریگیڈ اور علیحدگی پسندوں کی بھرپور سرپرستی اور دل کھول کر مالی معاونت کر رہا ہے اور صرف دو ماہ قبل ہی اس نے جعفر ایکسپریس میں اپنے پالتو دہشت گردوں سے حملہ کرا کر بے گناہ مسافروں کو یرغمال بنوا کر من مانے مقاصد حاصل کرنے کی مذموم کوشش کی تھی جس کو پاک فوج نے اپنی حکمت عملی سے ناکام بنا دیا تھا۔چھ اور سات مئی کی شب بھارت نے پاکستان پر رات کی تاریکی میں خود حملہ کیا اور 6 مئی کو ہی بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ذریعے پاکستانی فورسز پر حملہ کرایا جس میں ایک بار پھر سات بہادر سپوت شہید ہوئے۔
بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ پہلگام فالس فلیگ میں ناکامی کے بعد پھر سرگرم ہوگئی ہے اور اس نے اپنی پراکسیز کو سرگرم کر دیا ہے اور کوئٹہ ، گوادر اور کراچی کی اہم شاہراہ پر واقع شہر خضدار کو ٹارگٹ کرا رکھا ہے۔ ’’را‘‘ نے فتنہ الخوارج اور غیر قانونی طور پر وہاں رہنے والے افغانوں کے ذریعے دہشت گردی کا سلسلہ مزید بڑھانے کی ہدایات دی ہیں اور اپنے حامی دہشت گردوں کو افغانستان سے ملحقہ علاقوں سے ریکی کرائی اور خود کش بمباروں کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
افغانستان کی طالبان حکومت بھی بھارتی سازش میں ملوث ہے اور افغانستان میں چھپے ہوئے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دے رہی ہیجن کے خلاف ایکشن لینے کے افغان حکومت صرف دعوے کرتی ہے مگر عملی طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن نہیں لیا جاتا تاکہ افغانستان سے ملحق دو صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی جاری رکھی جائے۔ خیبرپختون خوا میں دہشت گرد ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے کی سرکوبی اور ان کی دہشت گردی روکنے کے لیے پاکستانی فوج دن رات کوشش میں مصروف ہے ۔
پاکستان کے پہلے ایوبی مارشل لا کے فوجی صدر جنرل ایوب نے اپنی ایک کتاب میں کہا تھا کہ ’’ ہمیں دوست ضرور چاہئیں مگر آقا نہیں جو ہمیں ہدایات دیں۔‘‘ پاکستان میں 1999 میں اقتدار میں آنے والے فوجی حکومت کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات استوارکرنے کی بہت کوشش کی تھی اور بھارت کا دورہ کیا تھا مگر پاکستان کی دشمنی میں انتہا پر پہنچے ہوئے بھارتی حکمرانوں نے جنرل پرویز مشرف کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی تھی۔ نریندر مودی وزیر اعظم بناہے اور اسے جب سیاسی ضرورت پوری کرنی ہوتی ہے وہ پاکستان کے خلاف جارحیت شروع کر دیتا ہے ، اس نے 2019 میں دوسری بار حصول اقتدار کے لیے پلوامہ کا جھوٹا ڈرامہ رچا کر اپنے عوام کو پاکستان کے خلاف مزید بھڑکانے کی کوشش کی تھی ۔
پلوامہ میں ناکامی کے بعد اب مودی حکومت نے پہلگام میں دوسری دہشت گردی کرائی مگر دنیا نے پہلگام کے واقعے پر لگائے جانے والے الزامات پر یقین نہیں کیا اور عالمی ماہرین نے بھارت کو امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ بھارت نے عالمی سطح پر اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے جھوٹوں کی فیکٹریاں کھول لی ہیں ۔ اپنے عوام کو دکھانے کے لیے AI سے ایڈٹ شدہ وڈیوز چلائیں اور الزام لگایا کہ پاکستانی طیاروں نے حملے کیے جس پر بھارتی فوج نے ایک پاکستانی طیارہ گرا لیا ہے جب کہ پاکستان کے تمام جہاز محفوظ ہیں جب کہ خود بھارت نے پاکستان کے 14 شہروں پر اسرائیلی ساختہ 30 ڈرونز برسائے جس سے تین پاکستانی شہید ہوئے جب کہ 31 شہری پہلے شہید ہوئے تھے مگر بھارت اپنے جانی نقصان کا ثبوت نہیں دے رہا کیونکہ ایسا ہوا ہی نہیں ہے۔
پاکستانی فوج اور عوام نے مل کر بھارتی جارحیت ناکام بنا دی اور دنیا کو بتا دیا کہ عوام اپنی فوج کے مکمل طور پر ساتھ ہیں اور ہمارے لیے اب بھی سب سے پہلے پاکستان ہی ہے دیگر مقامی معاملات کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ یہ ملک ہے تو ہم سب ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کے بھارت نے کے خلاف ہے اور کے لیے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔