2015ء سے لاپتہ شہری کو مردہ قرار دینے سے متعلق مکمل طریقہ کار کی تفصیلات طلب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
سندھ ہائی کورٹ نے محکمۂ تعلیم کے لاپتہ ملازم کی تنخواہ کی عدم ادائیگی سے متعلق درخواست کی سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
محکمۂ تعلیم کے لاپتہ ملازم کی تنخواہ کی عدم ادائیگی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے کہا کہ محکمۂ تعلیم کا ملازم عبدالمجید 2015ء سے لاپتہ ہے، عدالتی حکم پر لاپتہ شہری کی تنخواہ جاری کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے سندھ ہائیکورٹ کی چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ سکھر کیخلاف انکوائری جاری رکھنے کی ہدایتعدالت نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ کتنے برس بعد لاپتہ شہری کو مردہ تصور کیا جاتا ہے؟
سرکاری وکیل نے بتایا کہ قانون کے مطابق 7 برس بعد لاپتہ شخص کو مردہ تصور کیا جاتا ہے۔
عدالت نے وکیل سے کہا کہ مطلوبہ وقت تو گزر گیا، بیوہ کو پینشن جاری کردیں، کیا مسئلہ ہے؟
سرکاری وکیل نے کہا کہ طریقہ کار کے مطابق دستاویزات مکمل کر کے عدالت نے مردہ قرار دینا ہوتا ہے۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے مکمل طریقہ کار کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سرکاری وکیل عدالت نے
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔