—فائل فوٹو

سندھ ہائی کورٹ نے محکمۂ تعلیم کے لاپتہ ملازم کی تنخواہ کی عدم ادائیگی سے متعلق درخواست کی سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔

محکمۂ تعلیم کے لاپتہ ملازم کی تنخواہ کی عدم ادائیگی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ 

دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے کہا کہ محکمۂ تعلیم کا ملازم عبدالمجید 2015ء سے لاپتہ ہے، عدالتی حکم پر لاپتہ شہری کی تنخواہ جاری کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے سندھ ہائیکورٹ کی چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ سکھر کیخلاف انکوائری جاری رکھنے کی ہدایت

عدالت نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ کتنے برس بعد لاپتہ شہری کو مردہ تصور کیا جاتا ہے؟

سرکاری وکیل نے بتایا کہ قانون کے مطابق 7 برس بعد لاپتہ شخص کو مردہ تصور کیا جاتا ہے۔

عدالت نے وکیل سے کہا کہ مطلوبہ وقت تو گزر گیا، بیوہ کو پینشن جاری کردیں، کیا مسئلہ ہے؟

سرکاری وکیل نے کہا کہ طریقہ کار کے مطابق دستاویزات مکمل کر کے عدالت نے مردہ قرار دینا ہوتا ہے۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے مکمل طریقہ کار کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سرکاری وکیل عدالت نے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور