آپریشن سندور: ہلاکتیں چھپانے کے بعد بھارتی فوج کا یوٹرن، مارے گئے فوجیوں کو اعزازات دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی:بھارتی افواج نے بالآخر “آپریشن سندور” کے دوران مارے جانے والے اپنے فوجیوں کو اعزازات دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جو کہ ان ہلاکتوں کے سرکاری طور پر طویل عرصے تک انکار کے بعد ایک واضح یوٹرن کی حیثیت رکھتا ہے،یہ فیصلہ اندرونی دباؤ اور فوج کے اندر بڑھتی بے چینی کے باعث کیا گیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، خاص طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے اطراف جہاں 250 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔ تاہم بھارتی حکومت اور افواج نے ان نقصانات کو عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا تاکہ اندرون ملک سیاسی نقصان اور عالمی سطح پر ہزیمت سے بچا جا سکے۔
اب جب کہ ان ہلاک شدہ اہلکاروں کو فوجی اعزازات دینے کا اعلان کیا جا رہا ہے، ان ہلاکتوں کا حقیقت میں اعتراف بھی خودبخود منظر عام پر آ گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اعزاز حاصل کرنے والوں میں بھارتی فضائیہ کے چار پائلٹس شامل ہیں، جن میں تین رافیل جنگی طیاروں کے پائلٹس تھے، جبکہ آدم پور ایئربیس پر ہلاک ہونے والے ایس-400 جدید فضائی دفاعی نظام کے پانچ آپریٹرز کو بھی اعزاز سے نوازا جائے گا۔
ادھم پور ایئربیس اور اس سے منسلک ایئر ڈیفنس یونٹ پر مارے گئے 9 فوجیوں، راجوڑی کے ایوی ایشن بیس پر ہلاک ہونے والے 2 اہلکاروں اور اڑی سپلائی ڈپو کے افسران سمیت 4 دیگر اہلکاروں کو بھی اعزازی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت ہلاک فوجیوں کے لواحقین پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی تصاویر یا تفصیلات سوشل میڈیا پر نہ شیئر کریں، تاکہ آپریشن میں ہونے والے اصل نقصانات چھپائے جا سکیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی حکومت نے ابتدا میں پٹھان کوٹ، ادھم پور اور دیگر بیسز پر حملوں کے نقصانات کو مکمل طور پر مسترد کیا تھا، تاہم اب اندرونی عسکری دباؤ اور افسران کی جانب سے سوالات کے بعد حکومت کو ہلاک شدگان کو سرکاری اعزازات دینا پڑ رہے ہیں، جو درحقیقت بھارتی فوجی ناکامی کا غیر اعلانیہ اعتراف ہے۔
خیال رہےکہ آپریشن سندور میں پاکستان کی جانب سے مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کے باعث بھارت کو سیز فائر پر مجبور ہونا پڑا۔ پے در پے حملوں اور جانی نقصانات نے نہ صرف بھارت کی عسکری برتری کے دعوے کی قلعی کھول دی بلکہ سیاسی قیادت کو بھی سخت دباؤ میں ڈال دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔