عالمی بینک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے منیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز اینا بیئرڈہ  کی سربراہی میں  جی-7، اسلام آباد میں واقع بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ون ونڈو سہولت مرکز کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد مستحقین کو ایک ہی چھت تلے فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات کا جائزہ لینا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بل گیٹس کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تعریف، بہترین فلاحی پروجیکٹ قرار دے دیا

وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ، چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد اور سیکریٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے مہمان وفد کا خیرمقدم کیا۔

وفد میں شامل دیگر معزز اراکین میں کنٹری ڈائریکٹر عالمی بینک ناجی بین حسین، آپریشنز مینیجر جناب گیلیس جے ڈروگیلیس، پروگرام لیڈ برائے انسانی ترقی محترمہ ہنن ہنن پائن، سینئر آپریشنز آفیسر محترمہ ایوا لیسلوٹ لیسکرواٹ، سینئر سوشل پروٹیکشن اسپیشلسٹ جناب امجد ظفر خان، منیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز کی معاون  خصوصی محترمہ این سنگز اور سینئر پروگرام اسسٹنٹ جناب ولید انور شامل تھے۔

وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ، سید عمران احمد شاہ نے محترمہ اینا بجیردے اور ورلڈ بینک کی ٹیم کو بی آئی ایس پی کے وسیع اثرات اور آپریشنل دائرہ کار سے ذاتی طور پر آگاہ کیا۔ انہوں نے ٹارگٹڈ اور مؤثر سوشل سیفٹی نیٹس کے ذریعے معاشرے کے سب سے کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے حکومتِ پاکستان کے پختہ عزم کو اجاگر کیا۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بی آئی ایس پی صرف نقد رقم کی منتقلی کا پروگرام نہیں بلکہ ایک انقلابی اقدام ہے، جس کا مقصد مالی شمولیت، تعلیم اور صحت کی سہولیات کو یقینی بنا کر لاکھوں خاندانوں کو غربت سے نکالنا ہے اور بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانا اس کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے عالمی بینک کی دیرینہ شراکت داری کو سراہا اور اس تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سماجی تحفظ کے شعبے میں پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام نے پاکستان کی غریب خواتین کو شناخت دی، سینیٹر روبینہ خالد

چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے اپنے استقبالیہ کلمات میں عالمی بینک کی مسلسل معاونت پر دلی شکریہ ادا کیا اور اس شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی شہید محترمہ بینظیر  بھٹو  کا  وژن ہے جس کا تصور انہوں نے اپنی جلاوطنی کے دوران دبئی میں پیش کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ  کو لازمی قرار دینے  کی شرط  کی بدولت  بی آئی ایس پی نے پاکستان کی لاکھوں غریب خواتین کو شناخت  دی اورمعاشی طور پر  خودمختار بنایا۔ انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ بچوں کی نادرا میں رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ بی آئی ایس پی کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور آج نادرا کے بعد سب سے بڑا ڈیٹا بیس بی آئی ایس پی کے پاس موجود ہے۔

سیکریٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے وفد کو بی آئی ایس پی کے بنیادی اقدامات اور عالمی بینک کے CRISP (کرائسز ریزیلینٹ سوشل پروٹیکشن) فریم ورک کے تحت حالیہ پروگرامز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ بی آئی ایس پی نے اپنے مستحقین کے لیے ڈیجیٹل بینکنگ متعارف کروا کر مالی شمولیت کو فروغ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی اضافی مالی امداد کا امکان

بریفنگ کے بعد چیئرپرسن اور سیکریٹری نے وفد کو ون ونڈو مرکز کا دورہ کروایا جہاں مہمانوں نے مختلف سہولیات کا جائزہ لیا، مستفید ہونے والی خواتین سے ملاقات کی اور خدمات کی مؤثر اور عوام دوست  سہولیات کو سراہا۔

محترمہ اینا بیئرڈہ نے بی آئی ایس پی کے مشروط اور غیر مشروط نقد امدادی پروگرامز کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرامز پاکستان کے سب سے کمزور طبقات تک مؤثر انداز میں پہنچ رہے ہیں، انہوں نے بی آئی ایس پی کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام، غذائیت اور خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا  کہ میں واقعی خوش ہوں کہ ہم نے ایک مضبوط شراکت داری قائم کی ہے جو نہ صرف معمول کے حالات میں بلکہ بحران کے وقت میں بھی کمیونٹیز کی مدد کرتی ہے۔ کووڈ۔19  اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران بی آئی ایس پی کا فوری اور مؤثر ردعمل اس کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جب وسائل  بالخصوص ایسی خواتین کے ہاتھ میں دیے جاتے ہیں جو گھرانے کی سربراہ ہوں تو اس سے نہ صرف خاندان بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی بہتر ترقیاتی نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اینا بیئرڈ بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام ورلڈ بینک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اینا بیئرڈ بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام ورلڈ بینک بی آئی ایس پی کے عالمی بینک انہوں نے بینک کی کے لیے

پڑھیں:

ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں

سعودی عرب نے ویژن 2030 کے تحت گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران نہ صرف معیشت کو متنوع بنانے میں نمایاں پیش رفت کی بلکہ روزگار، خواتین کے بااختیار بنانے، صحت، رہائش، کھیل، ثقافت اور نوجوانوں کی ترقی سمیت سماجی شعبوں میں بھی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق مملکت اب ایک مضبوط معیشت کے ساتھ ایک جدید اور متحرک معاشرے کی تشکیل کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔

اپریل 2016 میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ویژن 2030 کے آغاز کے بعد سعودی عرب نے اقتصادی، مالی، انتظامی اور سماجی اصلاحات کے ذریعے ایک نئی ترقیاتی راہ اختیار کی۔ گزشتہ تقریباً 10 برس کے دوران مملکت نے نہ صرف بڑے اقتصادی اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے بلکہ عالمی سطح پر اپنی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی حیثیت بھی مزید مستحکم کی۔

یہ بھی پڑھیے ویژن 2030: سعودی عرب نے سماجی و معاشی ترقی کے بیشتر اہداف قبل از وقت حاصل کر لیے

ابتدائی برسوں میں عالمی توجہ زیادہ تر اقتصادی تنوع اور میگا پراجیکٹس پر مرکوز رہی، تاہم اب ویژن 2030 کا سب سے نمایاں پہلو سعودی معاشرے میں آنے والی وسیع سماجی تبدیلیاں بن چکی ہیں، جنہوں نے شہریوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔

تازہ ترین ویژن 2030 سالانہ رپورٹ کے مطابق معیارِ زندگی، روزگار، گھروں کی ملکیت، کھیل، ثقافت، سماجی شمولیت اور ترقی کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ویژن 2030 صرف نئی معیشت نہیں بلکہ ایک نئے سعودی معاشرے کی بھی تشکیل کر رہا ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ویژن 2030 کے آغاز پر نوجوانوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی نوجوان ہی مستقبل کی ضمانت ہیں، اسی لیے حکومتی سرمایہ کاری کا بنیادی مرکز نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور مہارتوں کی ترقی ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔

روزگار اور انسانی ترقی میں نمایاں کامیابیاں

رپورٹ کے مطابق 2025 تک نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودی شہریوں کی تعداد 17 لاکھ سے بڑھ کر 26 لاکھ ہو گئی، جبکہ قومی بے روزگاری کی شرح 2016 کے 12.3 فیصد سے کم ہو کر 7.2 فیصد رہ گئی، جو مقررہ ہدف سے بھی بہتر کارکردگی ہے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) بھی روزگار کے بڑے ذریعہ بن کر سامنے آئے ہیں، جہاں ملازمتوں کی تعداد 88 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی، جو 2025 کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔

خواتین کی شمولیت میں تاریخی اضافہ

ویژن 2030 کے تحت خواتین کی معاشی شرکت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 22.8 فیصد سے بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 2030 کا ہدف 40 فیصد مقرر ہے۔

یہ کامیابی بچوں کی نگہداشت، لچکدار ملازمتوں، بہتر ٹرانسپورٹ، اور خواتین کے لیے نئے شعبے کھولنے جیسی حکومتی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب 43.9 فیصد درمیانی اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں۔

خصوصی افراد کے لیے بھی بہتر مواقع

کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے خصوصی افراد کی ملازمت کی شرح 14.7 فیصد تک پہنچ گئی، جو مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔ اس پیش رفت میں دفاتر میں رسائی بہتر بنانے اور آجر اداروں کی حوصلہ افزائی نے اہم کردار ادا کیا۔

انسانی ترقی اور رضاکارانہ خدمات

سعودی عرب کا ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (HDI) بڑھ کر 0.900 ہو گیا، جو 2025 کے ہدف سے بھی بہتر ہے۔

ملک میں رضاکارانہ خدمات کا رجحان بھی تیزی سے فروغ پایا، جہاں 17 لاکھ 49 ہزار رضاکار سرگرم عمل ہیں، جبکہ 2030 کا ہدف صرف 10 لاکھ تھا، جو 5 سال پہلے ہی حاصل کر لیا گیا۔

کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کے پروگرام چلانے والی بڑی کمپنیوں کا تناسب 30 فیصد سے بڑھ کر 76.83 فیصد ہو گیا، جبکہ غیر منافع بخش شعبے کا مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں حصہ 0.2 فیصد سے بڑھ کر 1.4 فیصد تک پہنچ گیا۔

نوجوانوں کی مہارتوں پر خصوصی توجہ

سعودی حکومت نے نوجوانوں کے لیے تعلیم، فنی تربیت، انٹرن شپ، کاروباری معاونت اور کیریئر ڈویلپمنٹ کے متعدد پروگرام شروع کیے۔

فنی و پیشہ ورانہ تعلیم مکمل کرنے والے 47.41 فیصد طلبہ کو 6 ماہ کے اندر ملازمت مل رہی ہے، جبکہ جامعات اور صنعتوں کے درمیان 90 سے زائد شراکتی پروگرام شروع کیے جا چکے ہیں۔

میڈیا انڈسٹری کے لیے بھی نیا میڈیا اسکالرشپ پروگرام متعارف کرایا گیا ہے۔

گھروں کی ملکیت میں نمایاں اضافہ

ویژن 2030 کے ہاؤسنگ پروگرام کے تحت رہائشی قرضوں، تعمیراتی منصوبوں اور نئے خریداروں کی معاونت کے باعث گھروں کی ملکیت کی شرح 66.24 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2025 کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔

صحت اور معیارِ زندگی میں بہتری

2024 میں اوسط عمر 79.7 سال تک پہنچ گئی، جبکہ 97.5 فیصد آبادی کو صحت کی سہولتیں میسر آ چکی ہیں۔

فی ایک لاکھ آبادی پر نرسوں کی تعداد 581.6 سے بڑھ کر 863.4 ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق متعدی بیماریوں سے اموات میں 50 فیصد کمی آئی۔ دائمی بیماریوں سے اموات میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اقوام متحدہ کے اہداف سے بھی بہتر ہے۔ 70 فیصد سرطان کے کیسز ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو رہے ہیں، جس سے علاج کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

کھیلوں اور صحت مند طرزِ زندگی کا فروغ

سعودی پرو لیگ، فارمولا ون سعودی گراں پری اور 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی جیسے منصوبوں نے سعودی عرب کو عالمی کھیلوں کا اہم مرکز بنا دیا ہے۔

2025 میں ریاض میں ہونے والے ای اسپورٹس ورلڈ کپ میں 30 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے جبکہ ٹکٹوں کی فروخت میں 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

متعدد کھیلوں کی سہولت رکھنے والے کلبوں کی تعداد 9 سے بڑھ کر 133 ہو گئی، جبکہ خواتین کی کھیلوں میں شرکت بھی نمایاں طور پر بڑھی۔ ریاض میراتھن میں شرکت کرنے والی خواتین کی تعداد 3,500 سے بڑھ کر 15 ہزار تک پہنچ گئی۔

تفریح، ثقافت اور سیاحت میں ترقی

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے تحت ملک بھر میں تفریحی سرگرمیوں، تھیٹر، سینما، کنسرٹس اور ثقافتی پروگراموں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

2025 میں سکس فلیگز قدیہ سٹی کا افتتاح کیا گیا جبکہ JAX فلم اسٹوڈیوز کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جو سعودی فلمی صنعت میں اہم سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا ہے۔

سیاحت کے فروغ کے لیے ای ویزا نظام نے بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ سعودی عرب کے 17 ریستوران اب مشیلن گائیڈ میں شامل ہو چکے ہیں۔

ثقافتی ورثے کا تحفظ

جدید ترقی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے اپنے تاریخی، ثقافتی اور اسلامی ورثے کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔

مملکت کے 8 تاریخی مقامات اب یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں، جو 2030 کا ہدف پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔

2025 میں بیرون ملک سے آنے والے عمرہ زائرین کی تعداد ایک کروڑ 80 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ گئی، جو مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ مکہ روٹ انیشی ایٹو کے ذریعے 12 لاکھ عازمین کو سہولت فراہم کی گئی۔

مستقبل کا لائحۂ عمل

رپورٹ کے مطابق ویژن 2030 کے اگلے مرحلے میں روزگار، رہائش، صحت، تعلیم، کھیل، ثقافت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں مزید پیشرفت پر توجہ دی جائے گی تاکہ مملکت کا ہر شہری اور رہائشی ترقی کے ثمرات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکے۔

ویژن 2030 کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف اقتصادی اشاریے نہیں بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیاں، بہتر ملازمتیں، معیاری رہائش، بہتر صحت اور ایک متحرک و خوشحال معاشرہ ہے، جس کی تعمیر سعودی عرب تیزی سے کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی وژن 2030 سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم