مہمند ڈیم کے حوالے سے ایک اور اہم سنگ میل عبور، ڈیم کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
مہمند ڈیم کے حوالے سے ایک اور اہم سنگ میل عبور، ڈیم کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز WhatsAppFacebookTwitter 0 23 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)مہمند ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا اور ڈیم کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے پروجیکٹ کا دورہ کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ریور ڈائی ورشن اور ڈیم فانڈیشن سمیت دیگر اہم اہداف حاصل کر لیے گئے، ڈیم کی تکمیل 28-2027 میں شیڈول ہے اور اس وقت 14 مختلف سائٹس پر کام جاری ہے، جن میں ڈائی ورشن سسٹم، اِن ٹیک ٹنل، سپل ویز اور پاور ہاس شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق 213 میٹر بلند مہمند ڈیم دنیا کا پانچواں بڑا کنکریٹ فیسڈ راک فل ڈیم (سی ایف آر ڈی)ڈیم ہے، اس ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 1.
ان کا کہنا تھا کہ ڈیم سے پشاور کو یومیہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم ہو گا، جبکہ مہمند ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے سالانہ 2 ارب 86 کروڑ یونٹ بجلی پیدا ہو گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانا توہین آمیز کوشش ہے، شیخ وقاص اکرم عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانا توہین آمیز کوشش ہے، شیخ وقاص اکرم ٹیکس چوری قطعا قابل قبول نہیں ،تدارک کیلئے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے، وزیراعظم صدر مملکت آصف علی زرداری سے آئی ایم ایف وفد کی اہم ملاقات، معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال الیکشن کمیشن کا بے ضابطگیوں کی شکایات پر نوٹس ، جمعیت اہلحدیث کے مرکزی امیر کا انتخاب خطرے میں پڑ گیا خیبرپختونخوا حکومت کا بٹگرام کی تحصیل آلائی کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ وزارت صحت کا ڈینگی کے خاتمے کیلئے متعلقہ حکام کو مراسلہ جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔