اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) آئندہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ  2 جون کے بجائے عید کے بعد 10جون کو پیش کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے  کی بعض شرائط کو پورا کرنے کے لیے کابینہ کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے ریلیف کی بجائے حکومتی اخراجات کم کرنے کی شرط رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق اخراجات کم کرنے کے لیے کمیٹی کو رواں ماہ کام مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف شرائط کے باعث بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی کی گئی ہے۔ دریں اثنا، وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے تصدیق کرتے ہوئے کہا آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے 9 جون کو جاری کیا جائے گا۔ ادھر صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام سے ملک میں معاشی ترقی کو فروغ حاصل ہوگا۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جہاد الظہور کی قیادت میں عالمی مالیاتی ادارے کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے جمعہ کو یہاں ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور دیگر اعلی حکام بھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور جاری آئی ایم ایف پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان میں معاشی استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی ترقی میں آئی ایم ایف کے کردار کو سراہا۔ وفد نے پاکستان میں معاشی اصلاحات اور عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہو سکا۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت تمام معاشی اہداف پورے کر لئے اور اصلاحات پر پیشرفت بھی کی ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں ایک پریس بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کے شعبہ مواصلات کی ڈائریکٹر جولی کوزیک نے کہا کہ اسلام آباد کے لئے یہ قرض پروگرام صرف غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام کے لئے ہے اور اس کا بجٹ فنانسنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ئی ایم ایف پروگرام عالمی مالیاتی ا ئی ایم ایف آئی ایم ایف

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری