معاہدہ نہ ہو سکا، آئی ایم ایف شرائط کے باعث بجٹ 10جون کو آئے گا: آئی ایم ایف پروگرام سے ترقی ہو گی، صدر
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) آئندہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ 2 جون کے بجائے عید کے بعد 10جون کو پیش کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے کی بعض شرائط کو پورا کرنے کے لیے کابینہ کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے ریلیف کی بجائے حکومتی اخراجات کم کرنے کی شرط رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق اخراجات کم کرنے کے لیے کمیٹی کو رواں ماہ کام مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف شرائط کے باعث بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی کی گئی ہے۔ دریں اثنا، وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے تصدیق کرتے ہوئے کہا آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے 9 جون کو جاری کیا جائے گا۔ ادھر صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام سے ملک میں معاشی ترقی کو فروغ حاصل ہوگا۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جہاد الظہور کی قیادت میں عالمی مالیاتی ادارے کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے جمعہ کو یہاں ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور دیگر اعلی حکام بھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور جاری آئی ایم ایف پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان میں معاشی استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی ترقی میں آئی ایم ایف کے کردار کو سراہا۔ وفد نے پاکستان میں معاشی اصلاحات اور عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہو سکا۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت تمام معاشی اہداف پورے کر لئے اور اصلاحات پر پیشرفت بھی کی ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں ایک پریس بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کے شعبہ مواصلات کی ڈائریکٹر جولی کوزیک نے کہا کہ اسلام آباد کے لئے یہ قرض پروگرام صرف غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام کے لئے ہے اور اس کا بجٹ فنانسنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ئی ایم ایف پروگرام عالمی مالیاتی ا ئی ایم ایف آئی ایم ایف
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔