واپڈا نے دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار جاری کر دئیے
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) واپڈا نے دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار جاری کر دئیے ہیں۔جاری اعدادوشمار کے مطابق دریا سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 76 ہزار 600 کیوسک اور اخرج ایک لاکھ 26 ہزار 900 کیوسک، کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 43 ہزار کیوسک اور اخراج 43 ہزار کیوسک، خیرآباد پل پر پانی کی آمد ایک لاکھ 36 ہزار 900 کیوسک اور اخرج ایک لاکھ 36 ہزار 900 کیوسک،دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد 43 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 18 ہزار کیوسک، چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 46ہزار 100 کیوسک اور اخراج 20 ہزار 400 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کو مہنگی پڑ سکتی ہے، عالمی جریدے نے خبردار کردیا
تربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1473.
خیبرپختونخوا میں پولیس کا سرچ آپریشن، 113 مشتبہ افراد گرفتار
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے مقام پر پانی کی آمد ریزروائر میں پانی میں پانی کی اور اخراج کیوسک اور ایک لاکھ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔