حکومتِ پاکستان کو ڈاکٹر عبد القدیر کا مقام و مرتبہ بحال کرنا چاہیے: رضا ربانی
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو ڈاکٹر عبدالقدیر کا مقام و مرتبہ بحال کرنا چاہیے۔
رضا ربانی نے اپنے بیان میں کہا کہ تاریخ کومسخ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہی قوم کی تشکیل کرتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی خفیہ سفارت کاری اور کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ جوہری پروگرام کا خاکہ وجود میں آیا، یہ ذوالفقارعلی بھٹو کی کوششیں تھیں جن کے نتیجے میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی سربراہی میں ٹیم تشکیل پائی۔
ان کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت ہر 5 سال بعد این ایف سی ایوارڈ جاری کرنا ضروری ہے
رضا ربانی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر مشرف حکومت کی طرف سے فردِ جرم عائد کرنا شرمناک ہے، حکومت کو اپنا سابقہ مؤقف واپس لینا چاہیے اور ڈاکٹر عبد القدیر کا مقام و مرتبہ بحال کرنا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ حیران کن ہےکہ جس شخص نے جوہری پروگرام کا خواب دیکھا، اسے عدلیہ کے ذریعے بین الاقوامی سازش کے تحت قتل کیا گیا۔
رضا ربانی نے مزید کہا کہ جس شخص نے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا، اسے ایک ڈکٹیٹر نے بین الاقوامی دباؤ پر رسوا کیا۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام شہید بےنظیر بھٹو نے شروع کیا اور اسے پروان چڑھایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کرنا چاہیے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔