بجٹ آگیا ۔ کیا یہ بجٹ عوامی توقعات کے مطابق ہے۔ یہ ایک مشکل سوال ہے کیونکہ اس کے لیے پہلے عوامی توقعات سمجھنا ہوں گی۔ ہمارے لیے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ لوگوں کو اس بجٹ سے کیا توقعات تھیں۔ اس کے بعد ہم اس بات کا احاطہ کر سکتے ہیں کہ کیا لوگوں کی اس بجٹ سے توقعات پوری ہوئی ہیں کہ نہیں۔
اب کیا لوگ اس بجٹ میں کسی بہت بڑے ریلیف کی توقع کر رہے تھے۔ میں سمجھتا ہوں بالکل نہیں۔ لوگوں کو اس بجٹ سے ایسی کوئی توقع نہیں تھی۔ عام آدمی کو بھی حکومت اور آئی ایم ایف کے تعلقات کا اندازہ ہے۔
اس لیے ایک رائے یہی تھی کہ اگر اس بجٹ کے نتیجے میں مزید مہنگائی نہیں ہوتی، قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوتا۔ زندگی جیسے ہے ویسے ہی چلتی رہے تو یہ ایک کامیاب بجٹ ہوگا۔ اس لیے میری رائے میں اس بجٹ کا جائزہ اسی تناظر میں لینے کی ضرورت ہے۔
کیا اس بجٹ کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ مجھے نہیں لگتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کوئی بڑی کمی نہ ہو سکے۔ لیکن یہ بھی ممکن نہیں کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دے۔ میں نے سب سے پہلے بجلی کی بات اس لیے کی ہے کہ اس وقت بجلی کا بل ہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ گزشتہ سال حکومت نے بجلی کی قیمتوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہم اس کوشش کی کامیابی اور ناکامی پر بات کر سکتے ہیں لیکن بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بجلی کی قیمتیں پہلے ہی اتنی بڑھ چکی ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن نہیں۔ میں یہ مانتا ہوں لیکن پھر بھی حکومت نے بجلی کی قیمت کم کرنے کی کافی کوشش کی ہے۔ اب وہ کتنی کامیاب رہی ہے یہ ایک الگ سوال ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں لوگ شاید کم قیمت ہونے کی توقع تو نہیں کر رہے تھے۔ لیکن انھیں ڈر تھا کہ بجٹ میں ایسا کچھ نہ آجائے کہ قیمتیں بڑھ جائیں۔ اس لیے اگر بجلی کی قیمتیں بڑھ نہیں رہیں تو بجٹ لوگوں کی توقعات کے مطابق ہے۔
جہاں تک تنخواہ دار طبقہ کی بات ہے اس کے ٹیکس پر مختلف رائے ضرور موجود تھیں۔ حکومت نے خود ہی یہ بات شروع کی کہ ہم تنخواہ دار طبقہ پر ٹیکس کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے تنخواہ دار طبقے میں ایک امید پیدا ہوئی کہ ان کا ٹیکس کم ہو رہا ہے۔ لیکن شاید کسی کو بھی یہ خیال نہیں تھا کہ ٹیکس ختم ہو جائے گا۔ بہت کم ہو جائے گا۔ یہ رائے بھی موجود ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ دار طبقہ پر ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف بھی یہ بات مان رہے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹیکس دیا بھی تنخواہ دار طبقہ نے ہے۔ لیکن کیا لوگوں کو یہ امید تھی کہ یہ ٹیکس ختم ہو جائے گا۔
نہیں میں نہیں سمجھتا کسی ایک بھی شخص کویہ امید تھی کہ ٹیکس ختم ہو جائے گا۔ آدھا ہو جائے گا۔ اس لیے یہ بحث تو ممکن ہے کہ ٹیکس کتنا کم ہوا ہے۔ عوامی توقعات کے مطابق کم ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کمی بہت کم ہے۔ ایسا ہی ہوا ہے۔ ایک طرف یہ رائے تھی کہ آئی ایم ایف زیادہ کمی نہیں کرنے دے گا۔ دوسری طرف یہ اندازہ بھی تھا کہ حکومت کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جہاں سے تنخواہ دار طبقے پر کم کیا گیا ٹیکس پورا کیا جا سکے۔ اس لیے کم کمی پر ہی گزارا کرنا تھا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس سے زیادہ کمی ممکن ہی نہیں تھی۔
وفاقی حکومت نے وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا ہے۔ پہلے خبر آئی تھی کہ اضافہ سات فیصد کیا جا رہا ہے۔ لیکن پھر سرکاری ملازمین کے احتجاج کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ اس کے بعد یہ خبر بھی سامنے آئی کہ وزیر اعظم نے اضافہ سات فیصد سے بڑھا کر دس فیصد کر دیا ہے۔ سرکاری ملازمین کہیں گے کہ یہ اضافہ کم ہے۔ وہ شاید احتجاج جاری بھی رکھیں۔ لیکن ہمیں دیکھنا چاہیے کہ یہ اضافہ کتنا جائز ہے۔ میری رائے میں گزشتہ سال مہنگائی بڑھنے کی شرح کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔ اگر گزشتہ سال مہنگائی دس فیصد سے کم شرح سے بڑھی ہے تو پھر یہ اضافہ جائز ہے۔ اگر زیادہ شرح سے بڑھی ہے کہ پھر اضافہ کم ہے۔
پنشن میں سات فیصد اضافہ کم ہے۔ پنشنرز کو اب قومی خزانہ پر بوجھ سمجھا جانے لگا ہے حکومت ایسی اسکیمیں لانا چاہتی جس سے پنشن کا بوجھ قومی خزانہ سے ختم کیا جا سکے۔ لیکن میں سات فیصد اضافہ کو کم سمجھتا ہوں۔ یہ اضافہ تنخواہوں کے برابر ہونا چاہیے تھا۔ بلکہ ستر سال سے زیادہ عمر کے پنشنرز کے اخراجات عام آدمی سے زیادہ ہوتے ہیں۔
اس لیے ان کی پنشن میں زیادہ اضافہ ہونا چاہیے۔ بہر حال اس اضافہ پر ضرور بات ہو سکتی ہے کہ کم ہے۔حکومت نے سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔ یہ کم ہے اگر کوئی سالانہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ پنشن لے رہا ہے تو اس پر اسی شرح سے ٹیکس لگائیں جو تنخواہوں پر ہے۔ یہ فرق ختم ہونا چاہیے۔
اپوزیشن کی جماعتوں نے بجٹ کو یکسر مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کو بھی بہت کم قرار دیا ہے۔ انھوں نے حکومت کے تمام اعداد و شمار کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ بھی روائتی بات ہے۔ ساری اپوزیشن یہی کرتی ہیں۔ کبھی کسی بھی اپوزیشن نے حکومتی بجٹ کی توثیق نہیں کی ہے۔ لیکن اپوزیشن کو شیڈو بجٹ پیش کرنا چاہیے تھا۔ انھیں اپنا بجٹ قوم کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
پہلے اپوزیشن کہہ رہی تھی کہ اس کے پاس اعدادو شمار نہیں ہیں۔ اب تو اعداد وشمار سامنے آگئے ہیں۔ اب اپوزیشن عوام کے سامنے اپنا شیڈو بجٹ پیش کر سکتی ہے کہ انھیں حالات میں ایسی ہی معیشت میں وہ کیسے بہتر بجٹ بنا سکتی تھی۔ لیکن ہمارے ملک میں سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی تھنک ٹینک نہیں ہیں۔ ان کے پیچھے کوئی ریسرچ نہیں۔ اس لیے کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس شیڈو بجٹ بنانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہان تو اپوزیشن شیڈو کابینہ کا بھی اعلان نہیں کرتی۔ اپوزیشن کے اندر لڑائیاں ہی اتنی ہیں کہ وہ مثبت اپوزیشن کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس لیے ہمیں سادہ مسترد کرنے پر ہی گزارا کرنا ہے۔
نان فائلرز پر سختیوں کا ہر بجٹ میں اعلان ہوتا ہے۔ لیکن سال کے آخر میں یہی پتہ چلتا ہے کہ ان سختیوں کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اگر پاکستان نے ترقی کرنی ہے تو جو لوگ ٹیکس نہیں دے رہے ان سے ٹیکس لینا ہوگا۔ جو گاڑی خریدتا ہے اسے فائلر ہونا چاہیے۔ جو پلاٹ خریدتا ہے اسے بھی فائلر ہونا چاہیے۔ جو بیرون ملک سفر کرتا ہے اسی بھی فائلر ہونا چاہیے۔ جس کا بجلی کا بل پچاس ہزار سے زائد ہے اسے بھی فائلر ہونا چاہیے۔ امیر نان فائیلرز پر زندگی تنگ کرنی چاہیے۔ یہ نان فائلرز کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب یہ معاملہ ایسے نہیں چل سکتا۔ کیا اس بجٹ میں ایسے اقدامات ہیں۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بجلی کی قیمتوں میں قیمتوں میں اضافہ فائلر ہونا چاہیے تنخواہ دار طبقہ میں سمجھتا ہوں ہو جائے گا یہ اضافہ حکومت نے کے مطابق سات فیصد سے زیادہ تھی کہ ا دیا ہے ہیں کہ اس لیے کے پاس ختم ہو
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔