ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل: جنوبی افریقہ کے خلاف دوسری اننگز میں آسٹریلیا کے 8 وکٹوں پر 144 رنز
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
آئی سی سی ٹیسٹ چیمپیئن شپ 2023-25 کے فائنل کے دوسرے روز کے اختتام پر جنوبی افریقہ کے خلاف آسٹریلیا نے اپنی پوزیشن قدرے بہتر کرلی۔ دفاعی چیمپیئن کو دوسری اننگز میں 8 وکٹوں پر 144 اسکور کرنے کے بعد 218 رنز کی لیڈ حاصل ہوگئی۔
آسٹریلیا کی پہلی اننگز کے 212 رنز کے جواب میں جنوبی افریقہ کے بلے باز جم کر نہیں کھیل سکے تھے۔ پہلی مرتبہ چیمپیئن شپ جیتنے کا خواب لیے جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم صرف 138 رنز کر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔
ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کے دوسرے روز کھیل کے آغاز پر جنوبی افریقہ نے 4 وکٹوں کے نقصان پر جب دوبارہ بیٹنگ شروع کی تو ان کے بیٹرز پہلے روز کے مقابلے میں کافی پر اعتماد نظر آئے۔
کپتان ٹمبا باؤما اور ڈیوڈ بیڈنگھم کے درمیان 64 رنز کی مستحکم پارٹنر شپ کے بعد جنوبی افریقہ کو کچھ امید ضرور ملی تاہم 94 کے مجموعی اسکور پر جب کپتان ٹمبا باؤما 36 رنز بنا پیٹ کمنز کا شکار ہوئے تو اس کے بعد جنوبی افریقی بیٹرز کینگروز کے سامنے زیادہ دیر تک مزاحمت کرنے میں ناکام رہے اور پوری ٹیم صرف 138 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئی۔
آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 28 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔ مچل اسٹارک 2 اور جوش ہیزل ووڈ ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
بعد ازاں آسٹریلیا نے دوسرے کھیل کے اختتام تک اپنی دوسری اننگز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 144 رنز بنائے۔ اس طرح انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف اب تک کل 218 رنز کی برتری حاصل ہوچکی ہے اور اس کی 2 وکٹیں ابھی باقی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تیسرے روز جمعے کو آسٹریلیا کا دیا ہوا ٹارگٹ جنوبی افریقہ کے لیے سہل ثابت ہوتا ہے یا پہلی اننگز کی طرح ان کے بلے باز دفاعی چیمپیئن کے بولرز کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ آسٹریلیا جنوبی افریقہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ا سٹریلیا جنوبی افریقہ جنوبی افریقہ کے ا سٹریلیا
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔