Jang News:
2026-06-03@08:20:16 GMT

سندھ کے بجٹ کیلئے کیا تجاویز پیش کی گئیں؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

سندھ کے بجٹ کیلئے کیا تجاویز پیش کی گئیں؟

— فائل فوٹو 

سندھ کا مالی سال 26-2025ء کا بجٹ آج سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے ہوگا، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بجٹ پیش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق سندھ کے مجموعی بجٹ کا تخمینہ تقریباً 37 کھرب سے زائد ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ صوبے کے ترقیاتی بجٹ کا کل تخمینہ 1018 ارب روپے لگایا گیا ہے، وفاقی حکومت سے 76 ارب روپے کی ترقیاتی گرانٹس ملنے کا تخمینہ ہے، غیر ملکی منصوبہ جاتی امداد کے تحت 366 ارب روپے ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی گرانٹس اور غیر ملکی امداد سمیت کل ترقیاتی بجٹ 1018 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ صوبائی ترقیاتی پروگرام کےلیے 520 ارب روپے اور ضلعی ترقیاتی پروگرام کےلیے 55 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سندھ اور خیبر پختونخوا کا بجٹ آج پیش ہو گا

سندھ اور خیبر پختونخوا کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، دونوں صوبوں میں وفاق کی طرز پر تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں 3856 ترقیاتی اسکیمیں بھی شامل ہیں جن میں 566 نئی اسکیموں کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پہلی بار اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کو مالیاتی اختیارات دیے جائیں گے۔ 34 ہزار اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور ان 34 ہزار اسکولوں کےلیے 18 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ہر اسکول کےلیے 3 سے 10 لاکھ روپے بجٹ مختص ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ترقیاتی فنڈز کےلیے 45 ارب روپے اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر شہروں کےلیے 7 ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی پیکیج کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ تعلیم کا ترقیاتی بجٹ 32 ارب سے بڑھا کر 38 ارب روپے کرنے اور صحت کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ 18 ارب سے بڑھا کر 21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ میں امن وامان قائم کرنے کے لیے 2 سو ارب روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ہے ذرائع نے بتایا کہ کی تجویز دی گئی ہے ذرائع کے مطابق کرنے کی تجویز ترقیاتی بجٹ ارب روپے کا امکان کا بجٹ

پڑھیں:

وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے

اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • ارکان پارلیمنٹ کی رہائش کیلیے فیملی سوٹس؛ بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز