ویب ڈیسک:  کالج آف آفتھالمالوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز (COAVS)، میو ہسپتال لاہور میں کارنیا ٹرانسپلانٹ کے آپریشنز کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا جہاں سات مریضوں کی کامیاب پیوند کاری کی گئی۔ ان مریضوں کی عمر 14 سال سے 64 سال کے درمیان تھی اور وہ یا تو مکمل طور پر نابینا تھے یا بینائی شدید متاثر تھی۔

آپریشنز کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر محمد معین نے کی جبکہ ٹیم میں پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم خان، ڈاکٹر سدرہ لطیف، ڈاکٹر رانا محمد محسن اور ڈاکٹر جنید افضل شامل تھے۔

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

یہ کارنیا ڈاکٹر فواد ظفر اور میر فاؤنڈیشن یو ایس اے کے تعاون سے امریکہ سے درآمد کیے گئے جن کی پیوند کاری مستحق مریضوں کو مفت فراہم کی گئی۔ علاج کی تمام لاگت پنجاب حکومت نے برداشت کی۔ یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس وعدے کا عملی مظہر ہے جس میں انہوں نے عوام کو مفت اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد معین نے کہا  یہ مہنگا علاج دوبارہ شروع کرنا مشکل تھا لیکن آج پنجاب کے غریب مریضوں کے لیے یہ بڑی کامیابی ہے۔ ہم وزیراعلیٰ پنجاب کے وعدے کے مطابق سب کو معیاری صحت دے رہے ہیں۔ کالج آف آفتھالمالوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز کارنیا عطیہ دینے والی عالمی تنظیموں سے تعلقات بڑھا رہا ہے تاکہ زیادہ مریضوں کا علاج ہو سکے۔ ساتھ ہی سرجنوں کی تربیت اور نئے آلات حاصل کرنے پر کام ہو رہا ہے۔   

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور 5روزہ نجی دورے پر ترکی روانہ

پروفیسر اسد اسلم خان جو آئی ڈیپارٹمنٹ میں کارنیا ٹرانسپلانٹ کے بانی ہیں ، اُن کا کہنا تھا  کہ کالج آف آفتھالمالوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز تیس سال سے نابینا لوگوں کے لیے اُمید کی کرن ہے۔ آج کے آپریشن صرف علاج نہیں بلکہ لوگوں کو نئی زندگی دینا ہے۔ مریم نواز شریف کی قیادت میں ہم ثابت کر رہے ہیں کہ سرکاری ہسپتال بھی مفت اور اعلیٰ علاج دے سکتے ہیں۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمود ایاز نے کہا کہ میو ہسپتال لاہور سرکاری آنکھوں کے علاج کی پہچان ہے۔ COAVS کی یہ کامیابی KEMU کے عوامی خدمت کے ذریعے معیار کے اصول کی مثال ہے۔ میں پروفیسر معین، پروفیسر اسد اور پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔  

گزشتہ سال کی طرح رواں سال بھی بجٹ ٹیکس فری

کالج آف آفتھلمالوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز آنکھوں کے علاج، تحقیق اور تربیت میں پنجاب کا اہم ادارہ ہے جو  پنجاب حکومت کے صحت کے منشور کے تحت کام کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کالج آف

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا