امریکی صدر نے ایران میں سیاسی قیادت کی تبدیلی کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ سیاسی طور پر درست نہیں سمجھا جاتا کہ حکومت کی تبدیلی کا لفظ استعمال کیا جائے، مگر اگر موجودہ ایرانی حکومت ایران کو دوبارہ عظیم بنانے میں ناکام ہو جاتی ہے، تو حکومت کی تبدیلی کیوں نہیں ہونی چاہیے؟
یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ٹرمپ کے دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیٹھ نے آج صبح کہا کہ یہ مشن حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں تھا اور نہ ہی ایسا کوئی مقصد تھا۔
اس کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ روز امریکی میڈیا کو بتایا کہ سب سے پہلے ہم حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے، ہمارا مقصد ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ ہے۔
ریجیم چینج کا مسئلہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی میں ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے۔ سابق ریپبلکن صدر جارج بش نے عراق میں حکومت کی تبدیلی پر زور دیا تھا، جس کا مقصد مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا خاتمہ تھا، مگر بعد میں یہ دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوا۔
امریکی سیاست میں مشرق وسطیٰ کے جنگوں میں امریکی مداخلت اور حکومت کی تبدیلی کے نظریات اب زیادہ مقبول نہیں رہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے بش کے دور کے نیو کنزرویٹو خیالات کی غیر مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی انتخابی مہم میں نئی جنگوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حکومت کی تبدیلی
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔