اٹلی: 'صدی کی شادی' کی تقریب کے خلاف احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 جون 2025ء) معروف ارب پتی اور ایمیزون کے بانی جیف بیزوس نے اطالوی شہر وینس میں اختتام ہفتہ ہونے والے پروگرام کے خلاف مظاہروں کے سبب ٹی وی کی سابق میزبان اور پروگرام پیش کرنے والی خاتون لارین سانچیز کے ساتھ اپنی شادی کی تقریب کا مقام تبدیل کر دیا ہے۔
شادی کی تقریب کے بارے میں یہ خبریں تھیں کہ ہفتے کے روز وینس کے ایک مشہور اور مرکزی نائٹ لائف کے علاقے، کیناریگیو کے سکولا گرانڈ دی سانتا ماریا ڈیلا میسریکورڈیا، میں منعقد کی جائے گی، تاہم اب حفاظتی وجوہات کی بناء پر اس تقریب کو لگون شہر کے ایک الگ تھلگ، کم قابل رسائی والے حصے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
سیاحوں کا پسندیدہ شہر وینس، لیکن نہروں میں کوڑا اتنا زیادہ
اس متوقع تقریب کے کافی تذکرے ہیں، جسے "صدی کی شادی" کا نام دیا گیا ہے۔
(جاری ہے)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ان کے شوہر جیراڈ کشنر سمیت مشہور شخصیات اس میں شرکت کرنے والی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ یہ دونوں پہلے ہی وینس پہنچ چکے ہیں۔
مارکو پولو: قدیم یورپ کو چونکا دینے والا سفر نامہ نگار
استقبالیہ کا مقام تبدیلجیف بیزوس کی شادی کی تقریب میں تقریباً 250 اہم مہمانوں کے شامل ہونے کی توقع ہے اور اب یہ شہر کے آرسنیل میں منعقد کی جائے گی۔
یہ جگہ وینس بینالے آرٹ میلے کے نمائش کا مقام ہے۔ یہ مقام شہر کے مرکزی علاقے سے دور واقع ہے، جو اصل میں 15ویں صدی میں اپنے عروج کے دور میں وینیشین ریپبلک کی سمندری سروس کا ایک شپ یارڈ تھا۔اس مقام کو قرون وسطیٰ کے اس سابق مذہبی اسکول سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے جہاں ابتدائی طور پر شادی کی پارٹی کا انعقاد ہونا تھا۔ یہ علاقہ پانی سے گھرا ہوا ہے جس کی وجہ سے جب پل بنائے جاتے ہیں تو زمینی راستے سے اس تک رسائی ناممکن ہو جاتی ہے۔
اسرائیلی اور ایرانی فلم سازوں کی مشترکہ پیشکش ’تاتامی‘ وینس فلم فیسٹیول میں
شہر کو امیروں کے لیے نجی پارک میں تبدیل کرنے کے خلاف احتجاجمقامی رہائشیوں اور دباؤ بنانے والے گروپوں سمیت مظاہرہ کرنے والے افراد اس شادی کی تقریب کے خلاف ہفتوں سے احتجاجی ریلیاں نکال رہے تھے۔ ان کی دلیل تھی کہ یہ تقریب شہر کو امیروں کے لیے ایک نجی تفریحی پارک میں تبدیل کر دے گی۔
بڑھتی سیاحتی سرگرمیوں سےنمٹنے کے لیے اٹلی کے اقدامات
مظاہرین شہر کے حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ سیاحوں کی ضروریات پر مقامی ضروریات کو ترجیح دیں۔ اطلاعات ہیں کہ ہفتے کے روز وینس کی نہروں، پلوں اور تنگ گلیوں میں اس طرح کے مزید مظاہرے کیے جائیں گے تاکہ اس مجوزہ پروگرام کو ایمیزون کے بانی اور ان کے مہمانوں کے لیے "ڈراؤنے خواب" میں تبدیل کیا جا سکے۔
وینس: دوسری عالمی جنگ کے زمانے کا بم ملنے کے بعد شہر بند
خبر رساں ادارے روئٹرز نے شادی کی تقریب کے خلاف مہم چلانے والے ایک کارکن توماسو کیزرائی کا بیان نقل کیا ہے، جن کا کہنا تھا: "میسریکورڈیا سے بیزوس کے بھاگنے کی خبر ہمارے لیے ایک عظیم فتح ہے۔"
بیزوس سانچیز کی شادی کی جگہ خفیہ ہےصدی کی اس شادی کی صحیح تاریخ اور مقام کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اب تک خفیہ رکھا گیا ہے۔
شہر کے صدر لوکا زیا کے مطابق شادی اور اس موقع پر منعقد ہونے والی پارٹیوں پر 55 ملین ڈالر کی لاگت متوقع ہے۔
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس شادی کی تقریب کے موقع پر ہی بیزوس بڑے پیمانے پر خیراتی عطیات بھی دیں گے، جس میں ایک ملین یورو کی وہ رقم بھی شامل ہے، جو وہ وینس کے لیگون ماحولیاتی نظام کا مطالعہ کرنے والے ایک تعلیمی ادارے کو دیں گے۔
صدر لوکا زیا نے اس شادی کی تقریب کا دفاع کیا اور مظاہرین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقریبات سے مقامی کاروباروں کو 55 ملین ڈالر تک کی آمدن ہو گی، جس میں مہمانوں کو قریبی ہوائی اڈوں تک لے جانے کے لیے 90 نجی جیٹ طیاروں کی خدمات بھی شامل ہیں۔
ادارت: جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شادی کی تقریب کے اس شادی کی کی شادی کے خلاف شہر کے کے لیے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت