برسات کی پہلی بارش، کچے گھروں کیلئے قدرتی آفت بن گئی، کئی جاں بحق، درجنوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
سٹی42: پنجاب میں برسات کی پہلی بارش کچے گھروں میں رہنے والے شہریوں کے لئے قدرتی آفت میں بدل گئی۔ کئی افراد کچے گھروں کی چھتیں گرنے سے فوت ہو گئے۔ درجنوں زخمی ہو گئے۔
آج پنجاب کے کئی علاقوں میں تھنڈر سٹارم آئے اور کئی علاقوں میں بارش رپورٹ ہوئی
پنجاب میں آج برسات کی پہلی بارشوں کے دوران کچے گھروں رہنے والے تین بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے اور 25 زخمی ہوگئے۔ بارش سے خیبر پختونخوا میں بھی حادثات ہوئے جن میں لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملیں۔
مجوزہ لیوی سے فرنس آئل کی سیل میں واضح کمی ہوگی؛ معاشی تھنک ٹینک
چونیاں میں چھت گرنے سے 2 بچیاں فوت ہو گئیں۔ بہاولنگر میں کچے مکان کی چھت گرنے سے 4 سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں کچھ علاقوں میں زیادہ کچھ مین معمولی بارش ہوئی۔ سب سے زیادہ نشتر ٹاؤن میں 45 ملی میٹر بارش ہوئی۔ کئی علاقوں میں بارش کے دوران بجلی بند ہو گئی۔ بٹ چوک اور ملحقہ علاقوں میں علی الصبح بارش کے آغاز مین ہی بجلی بند ہوئی جو سہ پہر کو بحال ہوئی۔ بجلی کی طویل بندش کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہوئی۔
پنجاب کی حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی
راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اسلام آباد میں ہائیکورٹ کی عمارت کے ایک حصہ کی چھت ٹپکنے لگی۔
ریسکیو ون ون ٹو ٹو پنجاب کے مطابق اوکاڑہ میں بنگلہ گوگیرہ کی نواحی بستی ریاض آباد میں بارش کے باعث بانسوں سے بنی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں ایک بچی دعا فاطمہ جاں بحق ہو گئی جبکہ 2 بچے زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں 7 سالہ مہوش اور 6 سالہ ارم شامل ہے۔
پنجاب میں محرم الحرام کا چاند نظر نہیں آیا
قصور کے نواحی گاؤں تلونڈی میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے دو بچے شدید زخمی ہوگئے، زخمی ہونے والے بچوں کو فوری طور ریسکیو کر کے نکال لیا گیا، بچوں کو طبی امداد دے کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
حجرہ شاہ مقیم میں بارش کے باعث اٹاری روڑ پر محنت کشوں کے تین گھروں کی چھتیں گر گئیں، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
جہلم کے علاقے سوہاوہ میں ایک شخص برساتی نالے میں ڈوب گیا، اوکاڑہ میں آسمانی بجلی سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔
دیپال پور میں چھت گرنے سے 2 افراد زخمی ہو گئے۔ شیخ بستی میں کچن گرنے سے ایک لڑکی زخمی ہوگئی۔
دو عام تعطیلات
جڑانوالہ 240 موڑ پر چھت گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا۔
ساہیوال کے نواحی گاؤں میں چھت گرنے سے 2 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے اضلاع مردان اور شمالی وزیرستان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔
جنوبی وزیرستان میں گذشتہ روز کی طوفانی بارش سے جامع مسجد کی چھت گر گئی، کچھ گھروں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چھت گرنے سے میں بارش کے علاقوں میں زخمی ہو ہو گئے کی چھت
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔