اپوزیشن ارکان کا رویہ انتہائی افسوسناک ،سسٹم کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے:سپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک:سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ ایوان میں ہمیشہ آئین کی پاسداری کی تلقین کی ،ایوان کی حرمت اور نظم و ضبط ہر حال میں برقراررکھا جائیگا۔
سپیکر ملک احمد خان نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں حکومتی جماعت کو برتری حاصل ہے ،سسٹم کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے،ایوان میں اپوزیشن ارکان کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے،ایوان کی تقدس مقدم رکھنا میری ذمہ داری ہے،رولنگ کے باوجود اپوزیشن ارکان نے شدید ہنگامہ آرائی کی۔
مخصوص نشستوں کی بحالی کا فیصلہ؛ کس پارٹی کو کیا ملا
ملک احمد خان نے مزید کہا کہ جمہوری اور پارلیمانی روایات کی پاسداری پر یقین رکھتا ہوں،اپوزیشن کو ہمیشہ مسائل پر بات چیت کرنے کی تلقین کی،پنجاب اسمبلی کا ایوان کوئی اکھاڑہ یا کبڈی کا میدان نہیں ،کچھ سازشی عناصر چاہتے ہیں کہ نظام کو درہم برہم کیا جائے ۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صوبائی اسمبلی میں تقریر کے دوران ہلڑ بازی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے پی ٹی آئی کے 26 اراکین کو 15 اجلاسوں کیلئے معطل کردیا۔
سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کے بعد علی امین نے تین افسر معطل کر دیئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔