ٹرمپ کی نیویارک کے پہلے ممکنہ مسلمان مئیر ظہران ممدانی کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک سٹی کی مئیرشپ کیلئے مسلمان امیدار ظہران ممدانی کو دھمکی دی ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ظہران ممدانی اگر میئر بنے تو نیویارک کو وفاقی فنڈز نہیں دیے جائیں گے۔
انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ظہران ممدانی کمیونسٹ ہے، اگر وہ جیتے تو نیویارک کے لیے بہت بُرا ہوگا۔
ادھر ظہران ممدانی نے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی دھمکی کا ہنس کر جواب دیا کہ وہ کمیونسٹ نہیں اور صدر کی تنقید کے لیے پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوں۔
واضح رہے کہ 33 سالہ ظہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے میئر بننے کی دوڑ میں پہلا بڑا معرکہ سر کر کیا۔ انہوں نے ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق گورنر اینڈریو کومو کو حیران کن شکست دی تھی، جس کے بعد وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے لیے مضبوط امیدوار بن چکے ہیں۔
ظہران ممدانی کون ہیں؟
ظہران ممدانی یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئے۔ وہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں اور ”Democratic Socialists of America“ کے سرگرم رکن ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ نیویارک ایک ایسا شہر ہے جہاں ایک چوتھائی آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے، اور 5 لاکھ بچے بھوکے سوتے ہیں اور اسی حقیقت کو بدلنے کا عزم انہوں نے اپنے منشور میں ظاہر کیا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔