اسٹاک ایکسچینج کا نیا ریکارڈ؛ تاجر و سرمایہ کار ملکی ترقی میں بھرپور ساتھ دے رہے ہیں، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاجر و سرمایہ کار ملکی ترقی میں بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔
نئے مالی سال کے پہلے دن پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس کے پہلی بار 128,000 کی بلند ترین سطح عبور کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا مالی سال ایک اچھی خبر اور معاشی میدان میں ایک اہم پیشرفت سے شروع ہوا ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ 100 انڈیکس کا اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنا اس امر کا مظہر ہے کہ ملکی معیشت اور حکومتی پالیسیوں پر کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط و مستحکم ہو رہا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پچھلے مالی سال میں حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت نے بتدریج بہترین ریکوری دکھائی ۔ نیا مالی سال ملکی معیشت کی بہتری کی جانب سفر میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا ۔
شہباز شریف نے کہا کہ کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کے مشکور ہیں جو ملکی ترقی و خوشحالی میں حکومت کا بھر پور ساتھ دے رہے ہیں ۔ حکومت ملک میں بہترین کاروباری ماحول کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کوشاں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ میں حکومت کی معاشی ٹیم کو اس کامیابی پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔