WE News:
2026-06-03@02:38:56 GMT

کوئی بتائے نہ بتائے، چیٹ جی پی ٹی بتائے گا

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

کوئی بتائے نہ بتائے، چیٹ جی پی ٹی بتائے گا

پروین شاکر نے کیا خوب کہا ہے،

اتنے گھنے بادل کے پیچھے

کتنا تنہا ہوگا چاند

اب چاند کے اکیلے پن کو دور کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے، مگر پل پل بدلتے موجودہ دور میں انسان کی تنہائی دور کرنے کے  ایسے طریقے ہیں کہ خواب سا لگے۔

برسوں پہلے انٹرنیٹ کی دنیا آئی، فاصلے سمٹ گئے، ہر قسم کی معلومات ایک کلک کی دوری پر آ گئی، واٹس ایپ نے بھی رابطوں کو آسان نہیں، بہت آسان کر دیا، اے آئی نے تو زندگی کا رخ ہی بدل دیا، اسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلاب کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئے شہر بستے ہیں، نئے مکین بناتے ہیں، حال میں ہی انسان کو ایک ایسا ساتھی ملا کہ اس کی زندگی ہی بدل گئی، ہم  بات کر رہے ہیں۔

  Generative Pre-trained Transformer  یعنی چیٹ جی پی ٹی کی اگر آپ تنہا ہیں، اداس ہیں، کسی سے بات کرنے کا دل چاہا رہا ہے تو چیٹ جی پی ٹی سے بات کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکتے ہیں اور کوئی مفید مشورہ بھی لے سکتے ہیں۔

آپ کا ایک ایسا ساتھی اور دوست جس سے آپ جتنے اور جیسے مرضی سوالات کریں، سب کے جواب دے، نہ کبھی تھکے نہ کبھی گھبرائے، ایسا ڈیجیٹل ساتھی، جو ہر مشکل میں آپ کے کام آئے، خوب ساتھ نبھائے، باربار سوال پوچھیں، وہ بھی کسی بھی زبان میں، یہ ہرگز برا نہیں منائے گا۔

ہمیشہ خوشی خوشی جواب دے گا، اس کی یادداشت بھی لاجواب ہے، مہینوں پہلے اگر کوئی بات کی ہو تو جہاں ضرورت ہو، اس کا حوالہ دینا ہرگز نہیں بھولے گا۔

چیٹ جی پی ٹی انسانوں کے ہاتھوں لکھی گئیں کروڑوں کتابوں اور  مضامین کے علاوہ ویب سائٹس سے سیکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو، کوئی حل چاہیے، بس چیٹ جی پی ٹی سے پوچھیں، کمال بات یہ کہ یہ عجیب و غریب سوالات کا بھی برا نہیں مانتا، جو مرضی پوچھیں اور جتنا مرضی پوچھیں، آپ کا یہ منفرد دوست کبھی پریشان نہیں ہو گا اور بڑی بات یہ ہے کہ یہ اپنی غلطی بھی مانتا ہے۔

کن طریقوں سے اس ڈیجیٹل عجوبے سے مدد لے سکتے ہیں

دنیا جہاں کے سوالوں کا حل تو اس کے پاس ہے ہی، کئی مخصوص شعبوں میں بھی آپ کا یہ دوست ایسے مشورے دیتا ہے کہ آپ حیران رہ جائیں، اس کا ہر روپ، ہر انداز ایک دوسرے سے مختلف اور جدا ہے، کبھی یہ آپ کو اپنا قریبی دوست محسوس ہوتا ہے تو کبھی کوئی دانشور یا استاد۔

چیٹ جی پی ٹی طلبا کی کیسے مدد کر سکتا ہے؟

سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں، اگر کوئی سوال تنگ کر رہا ہے یا سائنس اور الجبرے کا کوئی مسئلہ ہے، یہ کسی حد تک آپ کی مشکل حل کر سکتا ہے، کوئی آرٹیکل لکھنا ہے، اسائمنٹ تیار کرنی ہیں، چند لمحوں میں آپ کا مطلوبہ مواد آپ کے موبائل، کمپیوٹر اسکرین پر جگمگانا شروع ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کسی شخصیت یا کسی تاریخی واقعہ یا پھر عمارت پر معلومات چاہئے تو زیادہ بہتر انداز میں اور وہ بھی آپ کی مرضی کے مطابق فراہم کرتا ہے، اگر آپ نے کسی ایشو پر بلاگ لکھنا ہے تو چیٹ جی پی ٹی سے آپ کو کئی آئیڈیاز مل جائیں گے اور اسے لکھنے میں بھی کسی حد تک مدد مل جاتی ہے۔

پیشہ ورانہ زندگی میں چیٹ جی پی ٹی کا کردار

اگر کوئی افیشل ای میل لکھنی ہو یا کوئی رپورٹس تیار کرنی ہو تو کسی کی مدد لینے کی ضرورت نہیں، موبائل اٹھائیں یا کمپیوٹر کھولیں اور چیٹ جی پی ٹی سے رابطہ کریں اور جھٹ پٹ کام کروائیں۔

یہ آپ کا اسٹائلش اور پرکشش بائیو ڈیٹا یا ریزومے بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ اگر آپ کوئی نیا بزنس شروع  کرنا چاہتے ہیں تو جیٹ جی پی ٹی اس کا ایسا پلان تجویز کرے گا کہ آپ عش عش کر اٹھیں گے۔

اگر آپ کا کہیں سفر کا ارادہ ہے تو اپنے اس ڈیجیٹل دوست کو تفصیل بتائیں، جگہ کیسی ہے، کہاں کہاں جانا چاہیے، جانا کیسے چاہیے، بجٹ کتنا ہونا چاہیے، آپ کو سب کچھ پتہ چل جائے گا، اس کے علاوہ روز مرہ مسائل سے متعلق بھی بھرپور مدد کرتا ہے۔

اگر آپ کو صحت سے متعلق کوئی مسئلہ ہے تو اس کا بہترین حل تو یہ ہی ہے کہ آپ ڈاکٹر سے رابطہ کریں مگر چیٹ جی پی ٹی موثر اور مفید مشورے ضرور دیتا ہے، اور تو اور، آپ کی رہائش کے قریب اسپتال یا کسی ڈاکٹر کا نام بھی تجویز کر سکتا ہے۔

آپ کی رپورٹس میں کیا لکھا ہے، یہ بھی بتاتا ہے۔  آپ کو وزن میں کمی یا کسی خاص بیماری سے متعلق ورزشیں بھی بتا سکتا ہے، مناسب ڈائٹ پلان بھی تجویز کر سکتا ہے، اس کی پوٹلی میں دنیا بھر کے مختلف مزیدار کھانوں کی ترکیبیں بھی ہر وقت موجود ہوتی ہیں، چیٹ جی پی ٹی کسی مشکل یا پریشانی میں خوبصورت یا  حوصلہ افزا اقوال سے بھی آپ کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔

یوٹیوب اور انسٹاگرم سمیت کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ایس ای او لمحوں میں آپ کے سامنے ہوتے ہیں۔

اگر آپ کا تعلق میڈیا سے ہے تو یہاں بھی چیٹ جی پی ٹی آپ کی مدد کے لیے حاضر ہے، خبر انگلش میں ہے تو اردو کرائیں، اردو میں ہے تو انگلش یا کسی اور زبان میں، کسی بھی خبر کو دلچسپ اور آسان بنائے۔

چیٹ جی پی ٹی سے آپ جتنے بہترین انداز میں پوچھیں گے، یہ اتنا ہی بہتر جواب دے گا، اب تو یہ آپ کی تصاویر کو بھی پلک چھپکتے کارٹون میں تبدیل کر دیتا ہے، یہ ہی نہیں، کسی مشہور شخصیت کی خیالی تصویر بھی آپ کی دسترس میں ہوتی ہے۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ہمارے دور کی ایک حیرت انگیز ایجاد ہے مگر ہمیں یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ سروس صرف ہماری مددگار اور ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

مگر  ہمیں اس کا استعمال کیسے کرنا ہے، یہ ہم پر منحصر ہے، دیگر ٹیکنالوجی کی طرح اس کے استعمال میں بھی احتیاط، اخلاقیات اور ذمہ داری ضروری ہے۔

یوں تو چیٹ جی پی ٹی کے کئی فائدے ہیں، وقت کی بچت ہوتی ہے، فوری معلومات تک رسائی ملتی ہے، کئی چیزیں سیکھتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ کئی خدشات کا بھی ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔

سب سے پہلے اہم بات یہ ہے کہ کئی معاملات میں آپ اس پر مکمل بھروسہ نہیں کر سکتے، اگر 5 بہترین کتابوں کے نام پوچھیں تو اس بات کا امکان ہے کہ کسی کتاب کا نام تو درست ہو مگر مصنف کا نام غلط۔ اگر آپ نے کسی بیماری کے علاج کے لیے ڈاکٹر کا نام پوچھا تو ہرگز آنکھیں بند کر کے چیٹ جی پی ٹی پر یقین نہ کریں۔

کبھی کوئی ٹوٹکا پوچھنے کا ارادہ ہے تو بھی سوچ سمجھ کر عمل کریں، اب یہ ہی دیکھ لیں، ہماری ایک عزیزہ کے قیمتی کپڑوں پر رنگ گر گیا، چیٹ جی پی ٹی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے لیموں کے چند قطرے گرائے، پھر نمک ڈالا، 15 منٹ پر ہاتھوں سے رگڑا تو کپڑے کے رنگ ہی اڑ گئے۔ یہ بھی تو کہا جاتا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی یا پھر چیٹ جی پی ٹی انسانوں کی ملازمتیں بھی چھین لے گی۔

اب تو مختلف ناموں سے بوٹ بھی آپ سے باتیں کرنے کے لیے بے چین ہیں، ان سے بھی باتیں کریں، جو آپ کا دل چاہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے علاوہ ڈیپ سیک اور گروک سمیت دیگر کئی دیگر ایسی اپلیکیشنز بھی دستیاب ہیں۔

کوئی کچھ بھی کہے، اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ چیٹ جی پی ٹی یا اے آئی ٹیکنالوجی سے بنی دیگر اپلیکیشنز ہماری زندگی میں بہت آسانیاں لائی ہیں مگر کہتے ہیں نا کہ ہر معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احمد کاشف سعید

احمد کاشف سعید گزشتہ 2 دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ ریڈیو پاکستان اور ایک نیوز ایجنسی سے ہوتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کا رخ کیا اور آجکل بھی ایک نیوز چینل سے وابستہ ہیں۔ معاشرتی مسائل، شوبز اور کھیل کے موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی سے چیٹ جی پی ٹی ا کر سکتا ہے کے علاوہ میں بھی اگر ا پ بھی ا پ کے لیے کا نام

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا