data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ 12 دن کے حملوں کے بعد جنگ بندی سے امریکا، اسرائیل اور ایران تینوں کو فیس سیونگ مل گئی ہے اور اچھا ہے۔ اب سب فریقوں کے پاس اپنی اپنی کامیابیوں کا اعلان کرنے کا موقع ہے۔ ٹرمپ نے تو اپنا اعلان کرتے ہوئے ’’گاڈ بلیس ایران‘‘ بھی کہہ دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ 20 برس قبل عراق پر جن کیمیاوی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر حملہ کیا گیا تھا اور ایران پر جس ایٹم بم کے بہانے حملہ کیا، نہ کیمیاوی ہتھیار ملے نہ ہی ایٹم بم کا سراغ ملا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں 1500 کلومیٹر دور واقع ممالک ایک دوسرے کے خلاف کیا جنگی تیاریاں کرتے ہیں۔ (دونوں فریقوں کا نقصان ہوا ہے لیکن اس بارہ روزہ جنگ میں حماس نے غزہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرکے اسرائیلی فوج کو دھکیل دیا ہے۔ مرتب)
ایران نے اس سارے منظرنامے (اسرائیل سے براہ راست جنگ اور پونے دو سال سے جاری جنگوں) میں بہت نقصان اٹھایا ہے۔ اس کی پراکسیز حزب اللہ، یمنی حوثی اور زینبیون کو کمزور کیا گیا اور شام میں ایران نواز حکومت بدلی گئی۔ جنگ میں ٹاپ لیڈر شپ کو گنوا دیا۔ کئی ایٹمی سائنسدان مارے گئے۔ جوہری انفرا اسٹرکچر کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔ جوہری پروگرام ڈی ریل ہو چکا ہے جسے بحال کرتے چند ماہ سے کئی سال لگ جائیں گے بشرطیکہ اسے بحال کرنے دیا گیا۔ ایران کے دنیا میں پھیلے اثاثے ختم کر دیے گئے ہیں اور اس کے پر کاٹ کر اچھی طرح سے کلپ کر دیا گیا ہے۔ ایران کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ یورینیم کا تمام ذخیرہ اس نے محفوظ رکھا ہے اور اس کو اپنی مرضی سے استعمال کر سکتا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ نیوکلیائی مواد ایران میں ہے یا کسی اور ملک میں موجود ہے لیکن ہے ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ سی این این یہ اطلاع دے رہا ہے کہ امریکا نے ایران کو سفارتی ذرائع سے ایٹمی پروگرام ختم کرنے پر 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کر دی ہے۔ ظاہر ہے ایران اس ڈیل کو قبول نہیں کرے گا لیکن اس سے ایران کے اندر حکومت کے خلاف پریشر بنانے میں مدد ملے گی۔
اسرائیل نے بھی جنگ کا مزہ اچھی طرح چکھ لیا ہے۔ اس کی آبادیوں اور شہریوں کا اچھا خاصا نقصان ہوا ہے۔ آئرن ڈوم سسٹم کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔ صہیونی ریاست کے شہریوں نے مالی و نفسیاتی نقصان بھی اٹھایا ہے۔ جب کوئی میزائل اسرائیل کی دھرتی پر گرتا ہے دل کو سکون ملتا ہے کہ بدمعاش ریاست کو بھی بارود کا مزہ تو چکھایا ہے۔ اسے بھی پتا چلے کہ اس کے ہاتھوں تباہ ہونے والوں پر کیا بیتی ہے۔ صرف سویلین عمارتوں کے نقصان کا اندازہ ڈیڑھ سے دو بلین کا لگایا گیا ہے۔ نشانہ بننے والی فوجی مقامات اور تیل کی تنصیبات کے نقصانات کا اندازہ سنسر ختم ہونے کے بعد لگے گا۔ معیشت کا بے اندازہ نقصان اس کے علاوہ ہے۔ اس کے حفاظتی میزائلوں کا ذخیرہ تقریباً ختم ہو چکا ہے جن کو دوبارہ بنانے کے لیے کثیر رقم درکار ہو گی۔ اسرائیل سے لاکھوں یہودیوں کے فرار ہونے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ مختصر یہ کہ اس کے ناقابل تسخیر ہونے کا تصور ناکام ہو چکا ہے۔
اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایرانی قوم مزید یکجا ہوئی ہے اور ایرانی قیادت کے خلاف جو عوامی خلا موجود تھا وہ بھی بھر گیا ہے۔ ایران میں بیرونی مداخلت کے ذریعے رجیم چینج پہلے بھی مشکل ترین عمل تھا اب وہ مزید مشکل ہو گیا ہے۔ ایران نے یہ بھی سب کو بتا دیا کہ اس کی سرزمین پر حملے کا جواب اپنی بساط کے مطابق بھرپور دیا جائے گا۔ اس سے اسلامی ملکوں میں اس کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ لیکن اس کو دوسرے مسلمان ملکوں سے تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا اور آئندہ وہاں مسلح گروپ بنانے سے گریز کرنا ہو گا۔
اس بات کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں کہ ایران کی موجودہ رجیم مشرق وسطیٰ میں امریکا کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ایران کا خوف پیدا کرکے ہی امریکا اپنا قیمتی اسلحہ عرب ممالک کو بیچ کر اپنی معیشت کو سنبھالا دے سکتا ہے۔ ایرانی حکومت کا خاتمہ وہ واحد معاملہ ہے جس پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان واضح اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ اسرائیل موجودہ ایرانی حکومت کا فوری خاتمہ چاہتا ہے جبکہ امریکا اس کو قائم رکھ کر اپنے فائدے اٹھانا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع کا جنگ بندی کے بعد بیان آیا ہے کہ ہمیں ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا نے سپریم لیڈر کی جان لینے کی اجازت نہیں دی اور اسرائیل کو ان کے ٹھکانے کی اطلاع فراہم نہیں کی۔
20 ماہ سے جاری غزہ کی جنگ میں فلسطینیوں کو ہونے والے بے شمار نقصانات کے باوجود فلسطینی ریاست کے قیام کی اہمیت ساری دنیا پر واضح ہو گئی ہے۔ یورپی ممالک سمیت 150 ممالک نے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سفارتی محاذ پر ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ امریکا میں رائے عامہ تقسیم ہو چکی ہے۔ 50 سال سے کم عمر افراد کی اکثریت اسرائیل کے خلاف ہو چکی ہے۔ نیویارک کے مئیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں ایک مسلمان نے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کر لی ہے جس سے ہوا کے رخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ زہران ممدانی کی کامیابی کو امریکا میں فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی حمایت تسلیم کیا جا رہا ہے۔ لندن کے بعد اس سال نومبر میں ایک مسلمان نیو یارک کا مئیر بن سکتا ہے۔ حماس کی جدوجہد اور غزہ کے مسلمانوں کی قربانیوں سے القدس کی آزادی کا راستہ بھی جلد یا بدیر ہموار ہو گا۔ اسرائیل اپنی پوری قوت کے استعمال کے باوجود حماس کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے اور اسرائیلی افواج کی اموات مسلسل جاری ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ مستقبل میں حماس کے کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک سیاسی گروپ کی صورت میں اپنے آپ کو کامیابی سے زندہ رکھ سکتی ہے۔ پچھلے دو برس میں ہونے والی تبدیلیوں سے مسئلہ فلسطین کو دنیا بھر میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے اور امت مسلمہ کے حوصلوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اس سارے معاملے میں امریکا کی تھانیداری یا چودھراہٹ برقرار رہی ہے۔ اس نے پھر پیغام دیا ہے کہ میں ہی دنیا کا پولیس مین ہوں۔ اسلامی دنیا کی کمزوری اور نا اتفاقی بھی واضح ہو گئی کہ OIC کے استنبول اجلاس کے دوران امریکا نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اردن، مصر، متحدہ عرب امارات اور ترکی نے مسلمانوں کو مایوس کیا ہے۔ عرب حکمرانوں نے ایران پر حملے کی مخالفت میں بیان تو دے دیے لیکن عرب حکومتی حلقوں میں ایران اور اس کے حامی مسلح گروپوں کے کمزور ہونے پر خاصے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یورپ کی دوغلی پالیسی بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ اس نے اسرئیل کی حمایت کر کے ڈبل اسٹینڈرڈ کا لقب حاصل کر لیا ہے۔ چین اور روس اس جنگ میں عملی طور پر ایران کی مدد کو نہیں آئے لیکن سفارتی محاذ پر حمایت ضرور کی۔ ایران نے یہ جنگ تن تنہا لڑ کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
اسرائیل کے جنگی اقدامات سے بھارت کی مودی حکومت کے جارحانہ عزائم کو حوصلہ ملا ہے کیونکہ بھارت اور اسرائیل اب اسٹرٹیجک پارٹنر بن چکے ہیں۔ انڈیا کے وزیر نے حال ہی میں دھمکی دی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ختم ہو چکا اور سارے دریائوں کے پانی کو ہم کنٹرول کریں گے۔ بھارت نے چین میں ہونے والی SCO کانفرنس میں ایران کی حمایت میں کیے جانے والے اعلامیہ پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر کے اسرائیل سے دوستی کا حق ادا کر دیا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو روکنے کی سکت امت مسلمہ کے پاس ہے یا نہیں۔ مسلمان ممالک کے آپس کے اتحاد، جدید ٹیکنالوجی اور ایشیا کی بڑی طاقتوں (روس، چین، جاپان) کی مدد کے بغیر اسرائیل کو علاقے کا چودھری بننے سے روکنا آسان کام نہیں ہے۔ مسلمان ملکوں کو اس ہدف کے حصول کے لیے سرگرم قائدانہ کردار کرنا پڑے گا۔ ترکی، پاکستان اور ایران ڈیفنس ٹیکنالوجی میں دوسرے اسلامی ملکوں کے مقابلے میں آگے ہیں۔ دفاعی پیداوار میں ان کا باہمی تعاون اور گلف ممالک کی ان دفاعی منصوبوں میں شرکت اچھے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
جنگ بندی کے باوجود یہ معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ ایک وقتی ٹھیرائو آیا ہے۔ عرب ممالک کو اپنے خطے کو میزائلوں کی اگلی بارش سے بچانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنی ہو گی جس میں سفارت کاری اہم کردار ادا کرے گی۔ سعودی عرب سفارتی محاذ پر یورپی ممالک سے مل کر سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ ترکی، پاکستان اور ایران کو ان کوششوں میں شامل کرنے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ چین اور روس کی ممکنہ مدد کے باوجود یہ دیکھنا ہوگا کہ امن قائم کرنے کی اس پالیسی کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی سے ان کوششوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔
حزب اللہ، حوثیوں اور عراق میں موجود ایران نواز گروپوں نے ایران اسرائیل جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ ابھی یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ آنے والے وقتوں میں یہ گروپ کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور ایران کس حد تک ان کو طاقتور رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ان مسلح گروپوں کی وجہ سے عرب دنیا میں بجا طور پر تشویش پائی جاتی ہے۔یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ غزہ میں جنگ بندی کی صورت میں اس کی تعمیر نو کے لیے 50 ارب ڈالر کون فراہم کرے گا۔ گلف کے ممالک اپنے خطے کو آئندہ جنگوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ان کو اپنی تجوریوں کے منہ کھول کر اس رقم کا بڑا حصہ ادا کرنا پڑے گا۔اسرائیل کی کھلی جارحیت کے بعد ایران اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ ایٹم بم کے بغیر دشمن کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورتحال میں خطے میں مہلک ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ رہ گئے امریکی صدر تو یہ چلتا پھرتا کارٹون ہیں۔ ان کی غیر متوازن شخصیت کی وجہ سے امریکا کے کردار کے بارے میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس سارے منظر نامے میں یہ بات یقینی ہے کہ اگر فلسطین کی آزاد ریاست جلد قائم نہ کی گئی تو مشرق وسطیٰ چند سال میں ایک اور جنگ کا مزہ چکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور اسرائیل اسرائیل کے کے باوجود اور ایران میں ایران ہو چکا ہے نے ایران ایران کی ایران کے یہ ہے کہ نے والے جا سکتا کے خلاف سکتا ہے ہے کہ ا گئی ہے گیا ہے کے بعد دیا ہے کیا جا کر دیا اور اس ہے اور رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو