ویسٹ انڈیز کا عروج اور انضمام کی ناقابل شکست اننگز
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف 34 برس بعد ون ڈے سیریز میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سنہ 1991 میں قومی ٹیم کو آخری دفعہ جس سیریز میں شکست ہوئی تھی اس کا سب سے بڑا حاصل انضمام الحق تھے جنہوں نے فیصل آباد میں اپنے دوسرے ون ڈے میچ میں میلکم مارشل اور کرٹلی ایمبروز جیسے عظیم تیز رفتار باؤلروں کا ہیلمٹ پہنے بغیر بڑی جی داری سے سامنا کرتے ہوئے 60 رنز بنائے تھے۔
بین الاقوامی کرکٹ میں ایک نووارد کا اپنے زمانے کی مضبوط ٹیم کے خلاف اعتماد دیدنی تھا۔ یہ اننگز مستقبل میں ان کے بڑے کارناموں کا نقطہ آغاز تھی جس کا پہلا بھرپور اظہار سنہ 1992 کے ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں ہوا۔ فائنل میں بھی وہ خوب کھیلے تھے۔ ہم نے ان کے دوسرے ون ڈے میچ کا حوالہ دیا ہے۔ پہلے ون ڈے میں وہ 20 رنز ہی بنا سکے لیکن اس میں ان کی فطری صلاحیت کی جھلک نظر آتی تھی۔ عمران خان نے اپنی کتاب ’آل راؤنڈ ویو‘ میں لکھا ہے کہ انضمام الحق کے پہلے میچ سے سب نے جان لیا تھا کہ کرکٹ کے بین الاقوامی منظر نامے پر ایک بے پناہ ٹیلنٹ کا حامل کرکٹر آن پہنچا ہے۔
یہ ساری تمہید ہم نے انضمام الحق کے کیریئر کے ابتدائی زمانے میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک تاریخی اننگز کا تذکرہ کرنے کے لیے اٹھائی ہے جس کی وجہ سے پاکستان نے سنہ 1993 میں وسیم اکرم کی زیر قیادت ویسٹ انڈیز کو ون ڈے میچ میں پہلی دفعہ اس کی سرزمین پر ہرایا تھا۔ اس میچ میں انضمام الحق ناقابل شکست 90 رنز بنا کر مین آف دی میچ ٹھہرے تھے۔ کامیابی کے لیے طے کی جانے والی مسافت میں آصف مجتبیٰ نے 40 گیندوں پر 45 رنز بنا کر ان کا ساتھ دیا۔ دونوں نے 18 اوورز میں 131 رنز بٹورے۔ اس جیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کورٹنی والش اور ایمبروز جیسے عظیم باؤلروں کے خلاف مشکل ہدف کے کامیابی سے تعاقب کا امکان اوپنروں کے مضبوط بنیاد فراہم کرنے سے بڑھ جاتا ہے۔ رمیز راجہ اور عامر سہیل کی 13 اووروں میں 71 رنز کی شراکت نے مڈل آرڈر کے لیے رستہ ہموار کیا جس پر چل کر پاکستان نے 260 رنز کا ہدف 43.
اس میچ میں کامیابی کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اس سیریز کی حیثیت بھی تاریخی ہے کیونکہ یہ ویسٹ انڈیز کے خلاف 32 برسوں میں مسلسل 11 ون ڈے سیریز میں ناقابلِ شکست رہنے کے اس عظیم سلسلے کی پہلی کڑی تھی جو اب محمد رضوان کی کپتانی میں ٹوٹ گئی ہے۔
سنہ 1988 میں ویسٹ انڈیز میں ون ڈے سیریز میں پاکستان کو 5 صفر سے شکست ہوئی تھی۔ سال 1990 میں پاکستان نے اسے ہوم سیریز میں 3 صفر سے ہرایا۔ سنہ 1991 میں ویسٹ انڈیز 2 صفر سے جیت گیا۔ اس پس منظر میں 1993 میں پہلے 2 ون ڈے میچوں میں شکست کے بعد ٹرینیڈاڈ میں انضمام الحق کی شاندار اننگز کی وجہ سے پاکستان کی سیریز میں ڈرامائی واپسی ہوئی جس کے بعد چوتھے ون ڈے میں کامیابی نے سیریز جیتنے کی امید جگا دی۔ انضمام الحق نے گیانا میں 5ویں فیصلہ کن میچ میں سیریز کی تیسری نصف سینچری اسکور کی۔ 244 رنز کے تعاقب میں کارل ہوپر اپنی ٹیم کو جیت کی دہلیز تک لے آئے۔ وسیم اکرم کی آخری گیند پر میزبان ٹیم کو جیت کے لیے 3 رنز چاہیے تھے۔ ایئن بشپ نے شاٹ کھیلا اور ابھی دونوں بلے بازوں نے ایک رنز مکمل کیا تھا کہ تماشائیوں نے فیلڈر کے تھرو پھینکنے سے پہلے گراؤنڈ میں دھاوا بول دیا۔ اس دارو گیر میں دوسرا رنز مکمل کر لیا گیا جبکہ نارمل صورت حال میں رن آؤٹ کا قوی امکان تھا۔ دونوں ٹیموں کا اسکور برابر ہو گیا۔ کرکٹ قوانین کی رو سے ویسٹ انڈیز جیت گیا کیونکہ حریف ٹیم کے مقابلے میں اس کی ایک وکٹ کم گری تھی لیکن میچ ریفری نے بے قابو ہجوم کی مداخلت کے ممکنہ نتیجے پر اثر مرتب ہونے کی بنا پر اسے ٹائی ٹھہرا کر دونوں ٹیموں کے لیے ’وِن وِن سچویشن‘ پیدا کر دی۔
اس سیریز سے ون ڈے میں ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کے ساتھ قومی ٹیم برابری کی سطح پر آئی تو پھر اسے 32 سال تک ون ڈے سیریز میں اس پر سبقت حاصل رہی جس کا خاتمہ 12 اگست 2025 کو ہوا ہے۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔ کامیابیوں کے تسلسل میں کبھی نہ کبھی تو رخنہ پڑنا ہوتا ہے لیکن اب پاکستان نے بغیر مزاحمت کے جس طرح پسپائی اختیار کی ہے وہ قابلِ تشویش بات ہے۔ پاکستان ٹیم 29.2 اوورز میں ڈھیر ہو گئی اور اس کے پانچ بلے باز کھاتہ نہ کھول سکے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم ماضی میں ویسٹ انڈیز کی طاقت ور ٹیم سے مقابلے میں سرخرو ہوتی رہی ہے اور آپسی سیریز میں مسلسل کامیابیوں کا سفر شروع ہونے سے پہلے اور بعد میں اہم ون ڈے مقابلوں میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو دوسری سرزمینوں پر بھی زیر کیا جس کی ایک اہم مثال سنہ 1989 میں نہرو کپ کا فائنل ہے اور دوسری مثال سنہ 1997 میں آسٹریلیا میں کارلٹن اینڈ یونائٹیڈ سیریز کے بیسٹ آف 3 فائنلز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دو صفر سے کامیابی ہے۔ اور اب اس ٹیم کے سامنے ہم سرنگوں ہوئے ہیں جو اس سیریز سے پہلے ون ڈے رینکنگ میں 10 ویں نمبر پر تھی۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں 27 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ اور سابق عظیم کھلاڑی اپنی ٹیم کے زوال پر سر جوڑ کر بیٹھے تھے لیکن اس نے 34 سال بعد ون ڈے رینکنگ میں اپنے سے کہیں اوپر کی ٹیم کو چت کر کے بڑی شان سے سیریز اپنے نام کر لی۔ تیسرے ون ڈے میں جیت کا مارجن 202 رنز رہا۔ برسوں کرکٹ پر راج کرنے والی ٹیم کے لیے یہ چوتھا موقع تھا جب اس نے مخالف ٹیم کو 200 سے زیادہ رنز سے ہرایا اور ادھر پاکستان کو چوتھی دفعہ 200 سے زیادہ رنز سے شکست ہوئی۔
ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کی بات کریں تو جیڈن سیلز نے ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کے خلاف بہترین بولنگ کا ڈیل اسٹین کا ریکارڈ توڑ دیا۔
سیلز کی تباہ کن بولنگ سے پہلے ویسٹ انڈین کپتان اور وکٹ کیپر شائے ہوپ کی شاندار سینچری نے اپنی ٹیم کو کمزور سے مضبوط پوزیشن میں لاکھڑا کیا۔ دوسری طرف ان کے ہم منصب محمد رضوان گیند لیفٹ کرتے ہوئے بھونڈے طریقے سے صفر پر آؤٹ ہوئے اور ان کی کپتانی میں قومی ٹیم کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔ اس کے بعد موصوف نے ارشاد فرمایا کہ میچ پہلے 40 اوورز میں ہمارے ہاتھ میں تھا۔
یہ 92 رنز پر آؤٹ ہونے والی ٹیم کے کپتان کی عجیب منطق ہے۔ 202 رنز سے میچ ہارنے کے بعد آپ کس منہ سے یہ بات کر سکتے ہیں۔ آخری 10 اوورز ون ڈے میچ میں اہم ہوتے ہیں اور اس میں تمام ٹیمیں تیزی سے رنز بناتی ہیں اور شائے ہوپ کوئی للو پنجو بلے باز تو تھے نہیں، وہ اس میچ سے پہلے ون ڈے کرکٹ میں 17 سینچریاں بنا چکے تھے ۔
شکست کے بعد بھی اپنی اداؤں پر غور کرنے کے بجائے ہمارے کپتان اور کرکٹ بورڈ کے پردھان جس طرح اپنی ناکامیوں کا جواز تراشتے ہیں اس پر مولانا روم کا یہ مصرع یاد آتا ہے:
عذر احمق بدتر از جرمش بود
اور جہاں تک ہمارے کپتانوں کی بات ہے تو ان کی حکمت عملی دیکھ کر انڈیا کے سابق کپتان منصور علی خان پٹودی کے ایک قول کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے جس کے مطابق ایک برا کپتان ایک عظیم ٹیم کو بھی معمولی بنا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ برا کپتان بڑی ٹیم کو اس کے مقام سے گرا سکتا ہے تو کمزور ٹیم کا اس کی کپتانی میں کیا حشر ہوتا ہوگا یہ جاننے کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کی گذشتہ چند برسوں کی کارکردگی پر نظر ڈالی جاسکتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔
انضمام الحق پاک ویسٹ انڈیز کرکٹ سیریز پاکستان کرکٹ ٹیم عذر احمق بدتر از جرمش بود محمد رضوان ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انضمام الحق پاک ویسٹ انڈیز کرکٹ سیریز پاکستان کرکٹ ٹیم محمد رضوان ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم ون ڈے سیریز میں میں ویسٹ انڈیز ویسٹ انڈیز کے انضمام الحق پاکستان نے شکست ہوئی اوورز میں ون ڈے میں ون ڈے میچ کرکٹ ٹیم سے پہلے کے خلاف میچ میں اس میچ ٹیم کے کے بعد کے لیے ٹیم کو
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔