ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم چوری کا ذریعہ بن گئی، 25 ارب کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (بزنس رپورٹر)پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے ایک بار پھر حکومت کی توجہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت بغیر ڈیوٹی خام مال درآمدکرکے مقامی مارکیٹ میں فروخت کرکے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کی طرف مبذول کرواتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ کیمیکلز اینڈ ڈائز کے چیپٹر27 سے چیپٹر 32 بالخصوص 3204 کے درآمدی اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 سے 2024 کے دوران اس چیپٹر کے تحت درآمد میں 80 فیصد اضافہ ہوا مگر اس کے مقابلے میں برآمدات میں کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر چوری ہو رہی ہے۔ سلیم ولی محمد نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے اپیل میں کہا کہ صرف چیپٹر 3204 پر اگر نظر ڈالی جائے تو کسٹم ڈیوٹی تقریباً 6 ارب روپے جبکہ سیلز ٹیکس 18 ارب روپے بنتا ہے جو مجموعی طور پر 24 سے 25 ارب روپے بنتا ہے مگر حکومت کو اس مد میں ریونیو بہت کم حاصل ہوا ہے جو باعث تشویش ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت لگائے جانے والے 18 فیصد سیلز ٹیکس یا کسٹم ریبیٹ کی ادائیگی اسی وقت کی جائے جب برآمدکنندگان کی جانب سے فارن ریمیٹنس موصول ہو جائے تاکہ برآمدکنندگان کو انتظار نہ کرنا پڑے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں برآمدکنندگان ریٹ بڑھنے کا انتظار کرتے ہیں جس سے ریزرو کی پوزیشن متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے ایک اہم تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ برآمدی لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی)کے بغیر ای ایف ایس کے تحت درآمدات پر پابندی عائد کرے۔ اس سے اس اسکیم کے غلط استعمال کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے تحت
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔