خواجہ آصف سے آئیڈیل تعلقات نہیں رہے ، حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہاہے کہ خواجہ آصف مجھ سے عمر میں کافی بڑے ہیں ، ان کے ساتھ تعلقات کبھی آئیڈیل نہیں رہے ہیں، آپ اتنے سینئر سیاستدان ہیں مگر اپنی ہی جماعت کو ہائبرڈ نظام کا طعنہ دیتے ہیں ، موجودہ نظام ہائبرڈ نہیں ، میں نہیں مانتا ، یہ سارے فیصلے پارٹی کے ہیں، پھر آپ کہتے ہیں میں پالیسی فالو کرتاہوں ۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی کا کہناتھا کہ تنخواہ میں اضافے کی منظوری کابینہ دیتی ہے ، نہیں چاہتااتنی تنخواہ بڑھائی جائے کہ سوالیہ نشان ہو، خواجہ آصف کہتے ہیں میں باہربات نہیں کرتا،یہ باہرہی بات ہوگئی، ایاز صادق ہمارے سپیکر ہیں ،خیال رکھنا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا جس طرح فیلڈمارشل کو عزت ملی کسی اور کو نہیں ملی ۔ انہوں نے کہا کہ بانی سے جیل میں ملاقات کی ایسی کوئی سوچ نہیں ۔
ریسکیو کی گاڑی رسی دے کر چلی گئی، دوسری گاڑی آئی تو کہنے لگے ہمارے پاس کچھ نہیں : سوات واقعہ میں جاں بحق بچوں کے والد کا انکشاف
حنیف عباسی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے قصیدے کے علاوہ ان کو کچھ یاد نہیں، شاہ محمود،یاسمین راشد و دیگر کا کوئی ذکر ہی نہیں ، مذاکرات کیلئے کلیئر دل و دماغ کے ساتھ آئیں، مذاکرات کیلئے اپنے معافی نامے ساتھ لیکرآئیں، معافی نامے بھی دوری پر نہیں ،جلدآجائیں گے ، معافی ملے گی اس کے بعد مذاکرات ہوں گے ۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: حنیف عباسی
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔