data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: قومی کرکٹ ٹیم کے اہم آل راؤنڈر شاداب خان کی کندھے کی سرجری آج (جمعہ) لندن میں کی جائے گی۔ سرجری کے بعد مکمل صحتیابی میں 6 سے 12 ہفتے لگ سکتے ہیں جس کے باعث وہ آئندہ چند سیریز میں دستیاب نہیں ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق شاداب خان بنگلادیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف شیڈول سیریز میں حصہ نہیں لیں گے، جبکہ ان کی ایشیا کپ میں شرکت بھی مشکوک ہے۔ کندھے میں دیرینہ تکلیف کے باعث شاداب کو بولنگ خصوصاً گگلی کروانے اور فیلڈنگ کے دوران گیند تھرو کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ دورہ انگلینڈ کے دوران کرائے گئے ایم آر آئی اسکین میں انجری کی شدت سامنے آئی جس کے بعد ڈاکٹروں نے فوری سرجری کا مشورہ دیا۔

شاداب چونکہ پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی ہیں، اس لیے ان کے تمام میڈیکل اخراجات بورڈ برداشت کرے گا۔

شاداب خان نے اپنے کیریئر میں اب تک 6 ٹیسٹ، 70 ون ڈے اور 112 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں، جن میں 1947 رنز بنانے کے ساتھ 211 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان بھی رہ چکے ہیں اور پی ایس ایل میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق شاداب نے طویل مدتی کیریئر اور 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شاندار واپسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ابھی سرجری کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مکمل فٹ ہوکر دوبارہ میدان میں اتر سکیں۔

شاداب کے ان فٹ ہونے سے قومی ٹیم کو آل راؤنڈ آپشن میں واضح خلا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے باعث متبادل کھلاڑیوں کو موقع ملنے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل