WE News:
2026-06-03@06:19:57 GMT

نوبیل امن انعام کون جیت سکتا ہے اور فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

نوبیل امن انعام کون جیت سکتا ہے اور فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟

نوبیل امن انعام دنیا کا سب سے معزز عالمی اعزاز ہے جو ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے دنیا میں امن، بھائی چارے اور قوموں کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے نمایاں کام کیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا

سال 2024 کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نامزد کیا ہے۔ اگر ٹرمپ یہ انعام جیت لیتے ہیں تو وہ امریکا کے پانچویں صدر ہوں گے جنہیں نوبیل امن انعام دیا گیا، ان سے پہلے تھیوڈور روزویلٹ، ووڈرو ولسن، جمی کارٹر اور باراک اوباما اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔

کون جیت سکتا ہے؟

نوبیل انعام کے بانی، سویڈش صنعت کار الفریڈ نوبیل، جنہوں نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا، اپنی وصیت میں لکھ چکے ہیں کہ یہ انعام اُس شخص کو دیا جانا چاہیے جس نے اقوام کے درمیان دوستی کو فروغ دیا ہو، جنگی افواج کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہوں، یا امن کے قیام اور فروغ کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کیا ہو۔

نوبیل کمیٹی کے موجودہ چیئرمین یورگن واتنے فریدنیس کے مطابق عملی طور پر دنیا کا کوئی بھی فرد یہ انعام جیت سکتا ہے، اور ماضی کی فہرست اس بات کی واضح مثال ہے کہ یہ انعام مختلف طبقوں اور ملکوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیا گیا ہے۔

کون نامزد کر سکتا ہے؟

ہزاروں افراد نوبیل انعام کے لیے کسی کو بھی نامزد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان میں حکومتوں اور پارلیمان کے ارکان، موجودہ سربراہانِ مملکت، جامعات کے پروفیسرز (جو تاریخ، سماجی علوم، قانون یا فلسفہ پڑھاتے ہوں)، اور پچھلے نوبیل انعام یافتہ افراد شامل ہیں۔ البتہ کوئی بھی شخص خود کو نامزد نہیں کر سکتا۔

اگرچہ نوبیل کمیٹی نامزدگی کی فہرست کو 50 سال تک خفیہ رکھتی ہے، مگر جن لوگوں نے کسی کو نامزد کیا ہوتا ہے وہ خود چاہیں تو اس کا اعلان کر سکتے ہیں، جیسا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کے لیے کیا۔

فیصلہ کون کرتا ہے؟

نوبیل امن انعام کا فیصلہ ناروے کی نوبیل کمیٹی کرتی ہے جس میں پانچ افراد شامل ہوتے ہیں جنہیں ناروے کی پارلیمنٹ نامزد کرتی ہے۔ یہ اراکین عموماً ریٹائرڈ سیاستدان ہوتے ہیں، لیکن ضروری نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نوبیل امن انعام اکثر ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جنہیں عوام جانتے بھی نہیں، صدر ٹرمپ

موجودہ کمیٹی کی سربراہی ناروے کے “پین انٹرنیشنل” کے صدر کر رہے ہیں، جو آزادیٔ اظہار کی عالمی تنظیم ہے۔ کمیٹی کے ارکان کا انتخاب ناروے کے سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی تناسب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟

نوبیل انعام کے لیے نامزدگیوں کا عمل ہر سال 31 جنوری کو مکمل ہوتا ہے، اس لیے نیتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ کی نامزدگی اس سال کے لیے قابلِ غور نہیں۔ کمیٹی کی فروری میں ہونے والی پہلی میٹنگ تک، خود کمیٹی کے ارکان بھی اپنے امیدوار نامزد کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد کمیٹی ایک مختصر فہرست تیار کرتی ہے، جس کے ہر امیدوار کا تفصیلی جائزہ مستقل مشیروں اور موضوعاتی ماہرین کی مدد سے لیا جاتا ہے۔ کمیٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ فیصلہ متفقہ ہو، لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو اکثریتی ووٹ سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انعام کے اعلان سے صرف چند دن پہلے ہی حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔

تنازعات

نوبیل امن انعام اکثر سیاسی پیغام سمجھا جاتا رہا ہے، اور بعض اوقات ایسے افراد کو بھی انعام دیا گیا ہے جن پر شدید اعتراضات ہوئے۔ نوبیل ویب سائٹ بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بعض انعام یافتگان ’سیاسی طور پر متنازع شخصیات‘ تھیں۔

مثال کے طور پر 2009 میں باراک اوباما کو صرف چند ماہ بعد انعام دیا گیا، جس پر دنیا بھر میں سوالات اٹھے۔ 1973 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور ویتنامی رہنما لی ڈک تھو کو ویتنام جنگ ختم کرنے کی کوششوں پر انعام دیا گیا، جس پر نوبیل کمیٹی کے دو اراکین نے استعفیٰ دے دیا۔ اسی طرح 1994 میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات، اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن اور شمعون پیریز کو مشترکہ انعام دیا گیا، جس پر بھی ایک رکن مستعفی ہو گیا۔

نوبیل انعام میں کیا ملتا ہے؟

نوبیل امن انعام جیتنے والے شخص یا ادارے کو ایک طلائی تمغہ، ایک خوبصورت ڈپلوما، 11 ملین سویڈش کراؤن (تقریباً 1.

15 ملین امریکی ڈالر)، اور اگر پہلے سے مشہور نہ ہوں تو بین الاقوامی سطح پر فوری شہرت حاصل ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الفریڈ نوبیل اوباما ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل انعام نیتن یاہو

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوباما ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل انعام نیتن یاہو نوبیل امن انعام انعام دیا گیا نوبیل کمیٹی نوبیل انعام نیتن یاہو انعام کے یہ انعام کمیٹی کے جاتا ہے کرتی ہے سکتا ہے ہوتا ہے کو دیا کے لیے

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان