WE News:
2026-07-24@06:53:13 GMT

نوبیل امن انعام کون جیت سکتا ہے اور فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

نوبیل امن انعام کون جیت سکتا ہے اور فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟

نوبیل امن انعام دنیا کا سب سے معزز عالمی اعزاز ہے جو ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے دنیا میں امن، بھائی چارے اور قوموں کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے نمایاں کام کیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا

سال 2024 کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نامزد کیا ہے۔ اگر ٹرمپ یہ انعام جیت لیتے ہیں تو وہ امریکا کے پانچویں صدر ہوں گے جنہیں نوبیل امن انعام دیا گیا، ان سے پہلے تھیوڈور روزویلٹ، ووڈرو ولسن، جمی کارٹر اور باراک اوباما اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔

کون جیت سکتا ہے؟

نوبیل انعام کے بانی، سویڈش صنعت کار الفریڈ نوبیل، جنہوں نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا، اپنی وصیت میں لکھ چکے ہیں کہ یہ انعام اُس شخص کو دیا جانا چاہیے جس نے اقوام کے درمیان دوستی کو فروغ دیا ہو، جنگی افواج کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہوں، یا امن کے قیام اور فروغ کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کیا ہو۔

نوبیل کمیٹی کے موجودہ چیئرمین یورگن واتنے فریدنیس کے مطابق عملی طور پر دنیا کا کوئی بھی فرد یہ انعام جیت سکتا ہے، اور ماضی کی فہرست اس بات کی واضح مثال ہے کہ یہ انعام مختلف طبقوں اور ملکوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیا گیا ہے۔

کون نامزد کر سکتا ہے؟

ہزاروں افراد نوبیل انعام کے لیے کسی کو بھی نامزد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان میں حکومتوں اور پارلیمان کے ارکان، موجودہ سربراہانِ مملکت، جامعات کے پروفیسرز (جو تاریخ، سماجی علوم، قانون یا فلسفہ پڑھاتے ہوں)، اور پچھلے نوبیل انعام یافتہ افراد شامل ہیں۔ البتہ کوئی بھی شخص خود کو نامزد نہیں کر سکتا۔

اگرچہ نوبیل کمیٹی نامزدگی کی فہرست کو 50 سال تک خفیہ رکھتی ہے، مگر جن لوگوں نے کسی کو نامزد کیا ہوتا ہے وہ خود چاہیں تو اس کا اعلان کر سکتے ہیں، جیسا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کے لیے کیا۔

فیصلہ کون کرتا ہے؟

نوبیل امن انعام کا فیصلہ ناروے کی نوبیل کمیٹی کرتی ہے جس میں پانچ افراد شامل ہوتے ہیں جنہیں ناروے کی پارلیمنٹ نامزد کرتی ہے۔ یہ اراکین عموماً ریٹائرڈ سیاستدان ہوتے ہیں، لیکن ضروری نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نوبیل امن انعام اکثر ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جنہیں عوام جانتے بھی نہیں، صدر ٹرمپ

موجودہ کمیٹی کی سربراہی ناروے کے “پین انٹرنیشنل” کے صدر کر رہے ہیں، جو آزادیٔ اظہار کی عالمی تنظیم ہے۔ کمیٹی کے ارکان کا انتخاب ناروے کے سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی تناسب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟

نوبیل انعام کے لیے نامزدگیوں کا عمل ہر سال 31 جنوری کو مکمل ہوتا ہے، اس لیے نیتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ کی نامزدگی اس سال کے لیے قابلِ غور نہیں۔ کمیٹی کی فروری میں ہونے والی پہلی میٹنگ تک، خود کمیٹی کے ارکان بھی اپنے امیدوار نامزد کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد کمیٹی ایک مختصر فہرست تیار کرتی ہے، جس کے ہر امیدوار کا تفصیلی جائزہ مستقل مشیروں اور موضوعاتی ماہرین کی مدد سے لیا جاتا ہے۔ کمیٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ فیصلہ متفقہ ہو، لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو اکثریتی ووٹ سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انعام کے اعلان سے صرف چند دن پہلے ہی حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔

تنازعات

نوبیل امن انعام اکثر سیاسی پیغام سمجھا جاتا رہا ہے، اور بعض اوقات ایسے افراد کو بھی انعام دیا گیا ہے جن پر شدید اعتراضات ہوئے۔ نوبیل ویب سائٹ بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بعض انعام یافتگان ’سیاسی طور پر متنازع شخصیات‘ تھیں۔

مثال کے طور پر 2009 میں باراک اوباما کو صرف چند ماہ بعد انعام دیا گیا، جس پر دنیا بھر میں سوالات اٹھے۔ 1973 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور ویتنامی رہنما لی ڈک تھو کو ویتنام جنگ ختم کرنے کی کوششوں پر انعام دیا گیا، جس پر نوبیل کمیٹی کے دو اراکین نے استعفیٰ دے دیا۔ اسی طرح 1994 میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات، اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن اور شمعون پیریز کو مشترکہ انعام دیا گیا، جس پر بھی ایک رکن مستعفی ہو گیا۔

نوبیل انعام میں کیا ملتا ہے؟

نوبیل امن انعام جیتنے والے شخص یا ادارے کو ایک طلائی تمغہ، ایک خوبصورت ڈپلوما، 11 ملین سویڈش کراؤن (تقریباً 1.

15 ملین امریکی ڈالر)، اور اگر پہلے سے مشہور نہ ہوں تو بین الاقوامی سطح پر فوری شہرت حاصل ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الفریڈ نوبیل اوباما ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل انعام نیتن یاہو

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوباما ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل انعام نیتن یاہو نوبیل امن انعام انعام دیا گیا نوبیل کمیٹی نوبیل انعام نیتن یاہو انعام کے یہ انعام کمیٹی کے جاتا ہے کرتی ہے سکتا ہے ہوتا ہے کو دیا کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف