اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 اگست2025ء) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا نے پہلی بار بی ایل اے جیسے گروہوں کے خلاف مل کر کارروائی پر اتفاق کیاہے، امریکہ نے پاکستان کی دہشت گرد گروہوں کو قابو میں رکھنے کی کامیابیوں کو سراہا ہے، بھارت کھلے عام بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر کے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔

بدھ کو سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ’’ایکس ‘‘پر پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی مذاکرات ہوئے، دونوں ممالک نے کلیدی نکات پر انسداد دہشت گردی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا،مشترکہ اعلامیے میں پہلی بار کالعدم بی ایل اے، داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان کا ذکر کیا گیا، امریکا نے پہلی بار بی ایل اے جیسے گروہوں کے خلاف پاکستان کے ساتھ مل کر کارروائی پر اتفاق کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی مشترکہ اعلامیے میں کالعدم بی ایل اے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا تھا،یہ اقدام پاک امریکہ سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی تعاون میں اضافے کا مظہر ہے، امریکہ نے بھارت کے 22 اپریل پہلگام حملے میں پاکستان ملوث ہونے کے الزامات کو تسلیم نہیں کیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کی دہشت گرد گروہوں کو قابو میں رکھنے کی کامیابیوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی موقف سے واضح ہوا کہ واشنگٹن پاکستان کو خطے میں مسئلہ نہیں بلکہ حل سمجھتا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کی ہر شکل اور صورت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، یہ اعلامیہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے ایک دن بعد جاری ہوا، یہ پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دی گئی۔

شیری رحمان نے کہا کہ بھارت کھلے عام بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر کے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جعفر ایکسپریس اور خضدار سکول بس حملے میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ شیری رحمان نے کہا کہ دونوں وفود نے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، دونوں ممالک نے ابھرتی ٹیکنالوجیز کے دہشت گردانہ استعمال کو روکنے کی ضرورت پر اتفاق کیا، پاکستان اور امریکہ نے اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز میں قریبی تعاون کے عزم کو دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت سے پاک امریکہ انسداد دہشت گردی تعلقات میں نئی جان آئی ہے، اس دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دوروں اور ملاقاتوں میں اضافہ ہوا ہے، ۔ شیری رحمان نے کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے حالیہ دنوں میں اعلیٰ ترین سطح پر اہم ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان نے امریکی انٹیلی جنس پر عمل کرتے ہوئے کابل ایئرپورٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا، اس تعاون پر صدر ٹرمپ نے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں پاکستان کی کھلے عام تعریف کی۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شیری رحمان نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں انہوں نے کہا کہ بی ایل اے جیسے پر اتفاق کیا امریکہ نے پہلی بار

پڑھیں:

جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز

امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔

اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔

مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔

پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویز

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔

بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گی

مجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔

اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔

یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
  • گھر کے شیر باہر ڈھیر، ویمنز ٹیم ٹرائنگولر سیریز میں مشکلات کا شکار
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ