سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اجلاس، عدم حاضری پر ارکان کی شدید تنقید کے بعد چیئرمین سی ڈی اے کمیٹی اجلاس میں پہنچ گئے ، تفصیلات سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 19 August, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے کی عدم موجودگی پر چیئرمین کمیٹی اور کمیٹی ممبران کی جانب سے شدید برہمی کا اظہارکیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وہ کسی بات کا جواب نہیں دیتے اور نہ وہ یہاں آتے ہیں،ان کو فورا یہاں بلائیں،اگر چیئرمین نہ آئے تو ہم آج کوئی آرڈر جاری کر یں گے۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ہم کوئی فارغ نہیں بیٹھے ،وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پیچھے ہاتھ ہے تو وہ کسی جوابدہ نہیں ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے کمیٹی کے بار بار طلب کرنے پراجلاس میں پہنچ گئے۔

اجلاس کو ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ سینٹر اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجے کے قتل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہم نے بلوچستان پولیس سے ملکر متعدد چھاپے مارے ہیں، اس کیس میں ابھی تک ایک ملزم گرفتار ہوا ہے، سابق تفتیشی آفیسر نے کچھ لوگوں کو بے گناہ بھی لکھا،ہم نے ملزمان کے خلاف ایکشن کے لئے ایف آئی اے کو بھی لکھا ہے۔سینٹر اسلم ابڑو نے کہا کہ قاتل شوانی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں،بلوچستان پولیس کے اہلکار ملزمان سے ملے ہوئے ہیں، ایک سینٹر کے بھائی کے قاتل نہیں پکڑے جارہے تو عام آدمی کا کیا ہوگا، آئندہ اجلاس میں آئی جی سندھ کو بلانا چائیے، ملزمان خطرناک ہیں وہ مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہیں۔سینٹر شہادت اعوان نے کہا کہ ہم نے سینٹر اسلم کے لئے سیکورٹی کا کہاتھا مگر آج تک نہیں دی گئی۔ وزیر مملکت داخلہ طلال نے کہا کہ چودھری اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق صوبوں کو ایک حد تک ہدایت دے سکتے ہیں، وزرات داخلہ قانون کے مطابق سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ نے کہا کہ یہ کیس ہماری ذمہ داری ہے، بلوچستان میں آپریٹ کرنا آسان نہیں،ہمیں ایک ماہ کا وقت دیا جائے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم آپ کو 40دن کا وقت دے رہے ہیں ۔ وزیر مملکت داخلہ نے بتایا کہ بلوچستان اور کے پی ارکان کو ایک سے زیادہ لائسنس دینے لگے ہیں، وزیراعظم نے بھی اس حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں،اسلحہ لائسنس کے معاملے پر اب خریدوفروخت نہیں ہو گی۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں گدھے کے گوشت فروخت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ ڈاکٹر طاہرہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارے پاس گوشت کو چیک کرنے کا نظام نہیں ہے،شبہ پر ہم گوشت کو لیب بھجواتے ہیں،پی سی آر کی سہولت ہمارے پاس نہیں ہے، لیب ٹیسٹ کی رپورٹ ایک ہفتے بعد ملتی ہے۔ وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ گدھے کا گوشت عام گوشت سے مہنگا ملتا ہے، مختلف ہوٹلز ایک دوسرے کے خلاف کمپیئن چلاتے ہیں۔ اجلاس میں سیلاب کے دوران جاں بحق افراد کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکراچی میں موسلادھار بارش جاری، پانی گھروں میں داخل، آئندہ 2 روز انتہائی اہم قرار، اربن فلڈنگ کا خدشہ کراچی میں موسلادھار بارش جاری، پانی گھروں میں داخل، آئندہ 2 روز انتہائی اہم قرار، اربن فلڈنگ کا خدشہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں پونے دو سال سے قید ملزم عاصم اللہ کی ضمانت منظور کرلی اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنے کا فیصلہ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک بورڈ سے سیکریٹری خزانہ کو نکالنے کا مطالبہ کر دیا ٹرین حادثات کا نوٹس، بریک پاور ہر ٹرین، کوچ کیلئے لازمی قرار سندھ طاس معاہدہ 24کروڑ عوام کی زندگیوں سے جڑا، یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا،اسحاق ڈار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چیئرمین سی ڈی اے قائمہ کمیٹی اجلاس میں سب نیوز

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف