کوئٹہ دھماکا: سیکیورٹی فورسز نے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔
کوئٹہ کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں فرنٹیئر کور یعنی ایف سی ہیڈ کوارٹرز کے قریب ایک زور دار دھماکا ہوا، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق کوئٹہ میں دھماکے کے نتیجے میں 9 جاں بحق جبکہ زخمیوں کی تعداد 30 سے زائد ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں دھماکا، 9 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے قوم کا حوصلہ پست نہیں کرسکتے۔ عوام اور سکیورٹی اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پرامن اور محفوظ بنانے کے عزم پر کاربند ہیں اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے شہدا کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دہشتگردی کوئٹہ دھماکا وزیراعلیٰ بلوچستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگردی کوئٹہ دھماکا وزیراعلی بلوچستان
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔