سندھ میںکام کرو تو سہی، پنجاب کیخلاف بات کی تو چھوڑوں گی نہیں، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
مجھ پر تنقید ہوتی ہے ہر جگہ مریم کی تصویر ہے، جب کام کروگے تو تصویر تو آئے گی ناں!پانی اور پیسہ میرے پنجاب کا ، نہریں بنانے پر آپ کو کیا تکلیف ہے؟ بھیک مانگنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، فیصل آباد میں خطاب
لوگوں کو تکلیف کہ شہبازشریف ہاتھ کیوں نہیں پھیلاتے،پاکستان کب تک بھیک کی جھولی پھیلا کر کھڑا رہے گا،پنجاب اپنے پانی سے صحرا کو سیراب کرتا ہے تو کسی کو کیا تکلیف؟ وزیراعلیٰ کی پیپلزپارٹی پر تنقید
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ مجھ پر تنقید کی گئی تو کچھ نہیں کہوں گی مگر پنجاب پر بات کریں گے اس کی ترقی پر بات کریں گے اور اس کے حق کے خلاف بات کریں گے تو مریم نواز آپ کو چھوڑے گی نہیں۔فیصل آباد میں الیکٹرک بسیں لانچ کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصل آباد واپس پی ایم ایل میں آنے لگا ہے، یہاں بیٹھے سینئر لیگی رہنما میرے والد کے ساتھ مشکل وقت میں بنیان مرصوص سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے، گرفتاری اور جیل جانے پر رانا ثنا نے کہا تھا کہ اگر میں نواز شریف کے ساتھ سو فیصد کھڑا تھا تو آج ہزار فیصد کھڑا ہوں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مجھ پر تنقید کی جاتی ہے اس کی تصویریں زیادہ آتی ہیں ہر جگہ مریم نواز کی تصویر ہے، جب کام کروگے تو تصویر تو آئے گی ناں!، مجھ پر بات کی گئی تنقید کی گئی تو کچھ نہیں کہوں گی مگر پنجاب پر بات کریں گے اس کی ترقی پر بات کریں گے اور اس کے حق کے خلاف بات کریں گے تو مریم نواز آپ کو چھوڑے گھر تک پہنچا کر آئے گی۔مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے عوام کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اور عوام نے خود مجھے دی، عوام ہر جگہ میرے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آتے ہیں اگر میں ان کے حق کے لیے خون کا آخری قطرہ بھی بہادوں تو یہ کم ہوگا، اگر پنجاب پر بات کروگے تو مریم نواز آپ کو چھوڑے گی نہیں۔انہوں ںے کہا ہماری نہروں پر اعتراض ہوا میں خاموش رہی جب کہ پنجاب پانی چوری نہیں کرتا صرف اپنے حصے کا پانی استعمال کرتا ہے، میرا پانی میرا پیسا ہے آپ کو کیا تکلیف ہے؟ سندھ میں کچھ کام کرو تو خوشی ہوگی پر کرو تو سہی، ہمیں مشورہ نہ دیں اور اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کے عوام کو الیکٹرک بسیں بہت بہت مبارک ہوں، یہاں کے عوام کے لیے ڈیڑھ سو الیکٹرک بسیں لے کر آئی ہوں جس میں فیصل آباد کو 90، جھنگ کو 30 اور چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سندھ کو 15، 15 بسیں دی جارہی ہیں، یہ فیصل آباد میں پہلی پبلک ٹرانسپورٹ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پر بات کریں گے فیصل ا باد مریم نواز نے کہا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔