آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دے دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دے دی۔
وزیر بلدیات آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے قاسم مجید اور دیوان چغتائی کے ہمراہ ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہاکہ آزاد کشمیر اس وقت ہیجانی کیفیت میں ہے۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں معاملات کو بات چیت کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا، ہم نے پہلے بھی بات چیت کے دروازے کھلے رکھے، جبکہ وفاقی وزرا نے بھی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات کیے۔
فیصل راٹھور نے کہاکہ آزاد کشمیر میں اس وقت لاک ڈاؤن ہے، لوگوں کے معمولات زندگی میں رکاوٹیں ڈالنا کسی بھی طور پر مناسب نہیں، اس لیے ایکشن کمیٹی حکومت کے ساتھ بات چیت کرے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے ریاست میں ہڑتال کر رکھی ہے، جس کا آج دوسرا روز ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے کل یکم اکتوبر سے ریاستی دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کردیا ہے۔
موجودہ حالات میں آزاد کشمیر میں نظام زندگی درہم برہم ہے، اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ غذائی بحران کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آزاد کشمیر حکومت عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات کی دعوت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا زاد کشمیر حکومت عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات کی دعوت وی نیوز عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات کی
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔