آزاد کشمیر: شٹرڈاؤن‘ پہیہ جام‘ احتجاج۔ حکومت کی مذاکرات کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرآباد(صباح نیوز)جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آزاد کشمیر بھر میں منگل کودوسرے روز بھی شٹر ڈائون ہڑتال اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رہیں، آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے جاری رہے، ایکشن کمیٹی کی حامیوں کو آج بدھ کے روز آزاد کشمیر بھر سے لانگ مار چ کرتے ہوئے مظفرآباد پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے،آزاد کشمیر حکومت نے ایک بار پھر ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی پیشکش کردی۔ وزیر حکومت فیصل ممتاز راٹھور اور دیوان علی چغتائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ ریاست کے امن کو برقرار رکھا جائے، لاک ڈائون مودی سرکار کی روایت ہے، بات چیت کے بغیر موجودہ صورتحال کا حل ممکن نہیں، حکومت نے پہلے بھی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا، آزادکشمیر کی فضا امن و بھائی چارے کی ہے اس کو برقرار رکھا جائے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل رہی جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، مظاہروں اور ہڑتال کے باعث انتظامیہ نے کنٹینرز لگا کر کوہالہ سمیت آزاد کشمیر کے مختلف انٹری پوائنٹ بند کردیے، عوامی ایکشن کمیٹی نے آج یکم اکتوبر کو تمام اضلاع سے ریاستی دار الحکومت مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے،کشمیر کے تمام اضلاع سے قافلے مظفرآباد کی جانب چل پڑے ہیںجبکہ حکومت آزاد کشمیر کے وز را نے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک با ر پھر مذاکرت کی دعوت دیدی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی کشمیر کے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔