پوپ لیو کی صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید، تارکین وطن سے سلوک کو غیرانسانی قرار دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
کیتھولک چرچ کے رہنما پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں پر اب تک کی سب سے شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا یہ پالیسی کیتھولک چرچ کی ‘حیات مقدس’ کی تعلیمات کے مطابق ہیں یا نہیں۔
پوپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں اسقاطِ حمل کے خلاف ہوں لیکن امریکا میں تارکینِ وطن کے غیر انسانی سلوک کے حق میں ہوں، میں نہیں جانتا کہ اسے کیسے ‘زندگی دوست’ کہا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: پوپ لیو کا اسرائیل سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اجتماعی سزا روکنے کا مطالبہ
کیتھولک چرچ کا موقف ہے کہ زندگی حمل کے آغاز سے لے کر فطری موت تک مقدس ہے اور یہی چرچ کی 1.
وائٹ ہاؤس کی جانب سے ترجمان ایبیگیل جیکسن نے کہا کہ صدر ٹرمپ عوام سے اپنے وعدے نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو عوام نے ان وعدوں کی بنیاد پر منتخب کیا تھا جن میں غیر قانونی مجرم تارکین وطن کی ملک بدری بھی شامل ہے۔ وہ اپنے وعدے پر قائم ہیں۔
پوپ لیو کو رواں سال مئی میں مرحوم پوپ فرانسس کی جگہ منتخب کیا گیا تھا۔ وہ اپنے پیش رو کی نسبت زیادہ محتاط انداز رکھتے ہیں، جبکہ پوپ فرانسس اکثر ٹرمپ انتظامیہ پر کھلے عام تنقید کرتے تھے۔ پوپ لیو سے شکاگو کے آرچ ڈائیوسس کے اس فیصلے پر بھی سوال کیا گیا کہ انہوں نے الی نوائے کے ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن، جو اسقاط حمل کے حامی ہیں، کو ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کو کئی قدامت پسند کیتھولک رہنماؤں اور امریکی بشپ نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پوپ لیو کا امن کے لیے روزہ رکھنے اور دعا کرنے کا اعلان
اس پر پوپ لیو نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ سینیٹر کے مجموعی کام کو دیکھا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں اختلاف اور کشیدگی ہے لیکن چرچ کی تعلیمات کے مطابق ہمیں کئی پہلوؤں کو دیکھنا ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو کہتا ہے کہ میں اسقاطِ حمل کے خلاف ہوں لیکن سزائے موت کے حق میں ہوں، وہ بھی حقیقی معنوں میں مسیحی تعلیمات کے مطابق ‘زندگی دوست’ نہیں کہلا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمگریشن پوپ لیو تارکین وطن ڈونلڈ ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمگریشن پوپ لیو تارکین وطن ڈونلڈ ٹرمپ پوپ لیو کہا کہ حمل کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔