پاکستان اور عمان کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
پاکستان اور عمان کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال سے سلطنتِ عمان کے سفیر فہد خلف الخروصی کی ملاقات کی جس میں صحت کے شعبے سمیت دو طرفہ تعاون اور باہنی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی۔
اس موقع پر مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان اور عمان کے مابین مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں۔ فارماسیوٹیکل شعبے میں تکنیکی اشتراک سے ایک دوسرے سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہیلتھ کیئر اسٹاف اور میڈیکل فزیشنز کے شعبے ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
مصطفی کمال کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے صحت کے میدان میں اشتراکِ عمل کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر صحت نے صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات ویکسین کی مقامی طور پر تیاری بارے حکومتی اقدامات بارے آگاہ کیا اور ساتھ صحت کے مختلف شعبوں میں ملکر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب عمان سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے طبی شعبے کی مہارت قابل تحسین ہے۔ سلطنتِ عمان نرسنگ اور میڈیکل اسپیشلسٹس سمیت ہنر مند طبی عملے کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
انہوں نے طبی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور ماہرین کے باقاعدہ تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے شعبے عمان کے صحت کے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔