جوا ایپ کیس: ڈکی بھائی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ، اکاؤنٹس میں کتنی دولت موجود ہے؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 October, 2025 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس) لاہور کی ضلعی عدالت (سیشن کورٹ) نے معروف پاکستانی یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کی درخواست ضمانت پر دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔سماعت کے دوران سرکاری وکیل اور اسپیشل پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ سعد الرحمٰن اس مقدمے میں نامزد ملزم ہیں اور ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری ایک معتبر سورس رپورٹ کی بنیاد پر شروع کی گئی، جس میں ڈکی بھائی کا کردار سامنے آیا۔

ان کے مطابق سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے آج تک کسی بھی جوئے یا فاریکس ایپ کو رجسٹرڈ نہیں کیا، مگر ڈکی بھائی نے اپنی ویڈیوز کے ذریعے عوام کو ایسی غیر قانونی ایپس پر سرمایہ کاری کرنے پر اُکسایا۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ڈکی بھائی کے ایک اکاؤنٹ میں 16 کروڑ اور دوسرے میں 5 کروڑ روپے موجود ہیں، مگر وہ اس رقم کے ذرائع کی وضاحت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے یہ رقوم دہشتگردی یا کسی غیر قانونی فنڈنگ کے لیے استعمال کی گئی ہوں۔عدالت نے سوال کیا کہ کیا ”بائنومو“ ایپ اب بھی پاکستان میں چل رہی ہے؟

جس پر این سی سی آئی اے کے نمائندے نے بتایا کہ پاکستان میں اس ایپ کی رسائی بند کر دی گئی ہے، تاہم کئی دیگر ایپس اب بھی چل رہی ہیں۔اسپیشل پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ ڈکی بھائی کے موبائل فونز ان کے قبضے میں ہیں مگر فیس لاک کے باعث ابھی تک ان تک رسائی حاصل نہیں ہو پائی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ’اگر فیس لاک ختم نہیں کرسکے تو 22 دن کے ریمانڈ میں کیا کیا گیا؟‘یاد رہے کہ سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی پاکستان کے معروف یوٹیوبر ہیں جو اپنی مزاحیہ ویڈیوز اور فیملی وی لاگز کی وجہ سے لاکھوں فالوورز رکھتے ہیں۔ تاہم حالیہ مقدمہ ان پر غیر قانونی جوئے کی ایپس جیسے ”بائنومو“، ”بیٹ 365“ اور ”39 گیم“ کی تشہیر کرنے کے الزام میں درج کیا گیا ہے۔ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈکی بھائی نے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے عام شہریوں کو ایسی ایپس پر

سرمایہ کاری کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں کئی افراد اپنی جمع پونجی سے محروم ہوگئے۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے مطابق ”بائنومو“ سمیت 46 ایپس کو پاکستان میں غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے، جن میں جوئے اور فاریکس ٹریڈنگ کی غیر ریگولیٹڈ ایپس شامل ہیں۔ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈکی بھائی پاکستان میں بائنومو کے کنٹری مینیجر کے طور پر کام کر رہے تھے اور کسی حکومتی ادارے سے اجازت نہیں لی گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیلئے حکومتی مذاکراتی ٹیم مظفر آباد پہنچ گئی چین کی پہلی 8Kخلائی دستاویزی فلم کی76 ویں بین الاقوامی خلائی کانفرنس میں شان دار نمائش مشہور کامیڈین لکی ڈیئر طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے جوا اور سٹے بازی والی ایپس کی تشہیر کا الزام، یوٹیوبر رجب بٹ کیخلاف مقدمہ درج ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات پر فرد جرم عائد فلم “731” لوگوں کو کیا بتاتی ہے؟ سامعہ حجاب نے حسن زاہد کو معاف کرنے کی وجہ بتا دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ڈکی بھائی

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور