لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 اکتوبر2025ء ) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے معروف قانون دان بیرسٹر وقاص ابریز خان اور ایڈووکیٹ جواد ابریز خان نے گورنر ہاؤس لاہور میں اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر گورنر پنجاب نے بیرسٹر وقاص ابریز خان کو چیئرمین ہیومن رائٹس کمیٹی پنجاب مقرر ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی آئندہ ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

گورنر سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ انسانی حقوق کی حفاظت اور انصاف کی بروقت فراہمی موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور انہیں اُمید ہے کہ بیرسٹر وقاص ابریز خان اپنے منصب پر نہایت دیانت داری اور محنت سے خدمات انجام دیں گے۔ دوسری جانب معروف دانشور، موٹیویشنل اسپیکر اور سماجی رہنما قاسم علی شاہ نے بھی بیرسٹر وقاص ابریز خان کی تقرری کو سراہتے ہوئے، اپنی فاؤنڈیشن کی جانب سے مبارکباد دی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نوجوان قیادت کا آگے آنا معاشرے میں مثبت تبدیلی کی نوید ہے، اور انسانی حقوق کے میدان میں وقاص ابریز جیسے باصلاحیت افراد کی موجودگی نہایت حوصلہ افزا ہے۔ اس موقع پر بیرسٹر وقاص ابریز خان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا:"میں انسانی حقوق کے تحفظ، مظلوموں کی آواز بلند کرنے، اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے ہمیشہ سرگرم رہوں گا۔ میری کوشش ہوگی کہ ہیومن رائٹس کمیٹی ایک فعال، مؤثر اور عوام دوست ادارہ بن کر ابھرے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام طبقاتِ فکر کے ساتھ مل کر کام کرنے اور معاشرے کے محروم طبقوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف